حج کی فضیلت و اہمیت

حج کی فضیلت و اہمیت

(By: Syeda Nasreen Faheem)

حج کے لغوی معنی ‘‘زیارت کا ارادہ کرنا ’’کے ہیں ۔حج کی اہمیت کے پیش نظر قرآن مجید میں ‘‘سورہ حج’’ کے نام سے ایک مکمل سورۃ مو جود ہے ۔دیگر امتوں میں بھی حج کا طریقہ معروف تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ             

‘‘بیت اللہ کا حج ۷۰ انبیا اکرام نے کی’’ ۔

مورخین کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے ۳۰۰ مر تبہ حج کیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام نے بھی یہ سعادت حاصل کی ۔ جب سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ کی دوبارہ بنیاد رکھی تو اللہ تعالی نے فرمایا  ۔۔۔۔۔۔۔۔

‘‘اور تم لو گوں میں حج کا بلند آواز سے اعلان کرو ۔’’                                   

سیدنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعلان کے بعد حج نے ایک عالمگیر عبادت کی شکل اختیار کر لی نیز خانہ کعبہ کی طرف خدا کے حکم کے مطابق آنا ، طواف و سعی کر نا اور عرفات میں ٹھرنے اور رسولﷺکے سکھا ئے ہو ئے طریقے کے مطابق ارکان حج ادا کر نے کو کہتے ہیں ۔حج ہر مسلمان ، بالغ ، عاقل ، سمجھدار اور ہر مالدار پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے ۔ ارشاد باری تعالی ہے  ۔۔۔۔۔

‘‘لو گوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کر لے’’ ۔     (سورۃ العمران آیت:۹۷)

 نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

‘‘اے لوگوں ! اللہ نے تم پر حج فرض کیا ہے اس لئے حج کیا کرو’’۔  (مسلم  ،  نسائی)                                                                                       

اس کے علاوہ ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا :

‘‘جو حج کا ارادہ رکھتا ہو  وہ جلدی کرے’’ ۔      (احمد  ، ابو داؤد)                                                                              

در اصل اسلام کے چار  بنیادی اصولوں میں  یعنی ارکانوں میں حج ایک اہم اور بنیا دی رکن ہے یہ مالی اور جسمانی دونوں طرح کی عبادت سے مزّین ہے اسلیے آپ ﷺ نے فرما یا  ۔

‘‘جس شخص کے لئے کو ئی ظاہرہ اور واقعی کو ئی مجبوری حج سے روکنے والی نہ ہو اور وہ مالی و جسمانی استطاعت بھی رکھتا ہو وہ فریضہ حج ادا کرے ۔ اسکے باوجود اگر وہ بغیر حج کئے مر جائے تو اسے اختیار ہے کہ وہ یہودی یا نصرانی ہو کر مرے’’۔

چنانچہ حج اسلام کا وہ اہم اور آخری اور تکمیلی رکن ہے کہ اگر بندے  کو صحیح حج نصیب ہو جائے کہ حج ادا کے بعد اسکی مکمل زندگی اطاعت الٰہی اور محبت رسولﷺپر بسر ہو اور اس کا دل نورِایمانی کا سر چشمہ بن جائے جہاں صرف حق کی روشنی اور حق کی صدا سنائی دے اور باقی سب گناہوں کے آلودہ غبار دُھل جائیں یا جھڑ جائیں تو گویا اسے سعادت کا اعلیٰ مقام حاصل ہو گیا اور اسے ایسی نعمت حاصل ہو گئی جس سے بڑی نعمت کا تصور اس دنیا میں نہیں کیا جا سکتا ۔

چنانچہ حضورﷺکا ارشاد مبارک ہے ۔

جس شخص نے حج کیا اور زنا اور گناہ سے محفوظ رہا تو وہ تمام گناہ سے پاک ہو کر ایسا لوٹا جیسا کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہو نے کے روز پاک تھا (بخاری  ، مسلم )

چنانچہ حج ایک ایسی عظیم و الیشان عبادت ہے اور اس میں ایسے اعمال و افعال ھیکہ ان کا کر نے والا موحد بن جا تا ہے اس قدیم عبادت میں شعائر اللہ کی عظمت اور شوکت کا اظہار ہو تا ہے ۔ یہ ملت اسلامیہ کا ایک عظیم الیشان اجتماع ہو تا ہے جس میں باہمی الفت و محبت اور تعاون حاصل ہو تا ہے ۔ حج عسکری زندگی کا ایک کامل نمو نہ ہے   نہ صرف یہ ایک کامل نمونہ ہے بلکہ مختلف عبادات میں مساوات پیدا کر نے اور متبرک مقامات کی زیارت اور وہاں کی برکات حاصل کر نے کا بھی یہ بہترین ذریعہ ہے ۔

حج ہمارے جد اصحبہ کی عظیم یادگار ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ سنت ہے جو مقبول بارگاہ الٰہی ہے اور ایسی

پسندیدہ و مقبول ہے کہ اسلامی ارکان میں سے اس کو اہم اور بنیادی رکن قرار دیا ہے کیونکہ تکمیل کعبہ کے بعد اللہ تعالی کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب لو گوں کو اللہ کے گھر کے طواف کے لئے ندا دی اس طرح دوردراز سے آکر لو گوں نے حج ادا کر نا شروع کر دیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعلیمات کے عین مطابق  حضرت اسماعیل علیہ السلام تک مناسک حج کی ادائیگی ہو تی رہی آپ کے وصال کے بعدلوگ جاہلانہ رسوم میں مشغول ہو گئے اور بتوں کی پرستش شروع کر دی پھر اللہ تعالی نے اپنے محبوب حضور پر نور احمد مجتبیٰﷺکو معبوث فرمایا چنانچہ آپﷺ نے خانہ کعبہ کو ہر  قسم کی کفرو شرک کی علامتوں سے پاک کر دیا اور گمراہ قوم کو ایک ہی خدا کا پرستار بنا دیا اور حج بیت اللہ کو انہی بنیادوں پر اتوار کر دیا جو انکے جدِ اصجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کیں تھیں ۔ حضرت محمد ﷺ نے ۱۰ہجری کو صحابہ اکرام ؓ کی ایک جماعت کے ساتھ اپنی وفات کے صرف تین مہینے قبل ادا کیا یہ حج حجۃ الوادام کے نام سے مقبول و معروف ہے ۔حج کے موقع پر میدان عرفات میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہو ئی ۔

ترجمہ : ‘‘ آج میں نے تمھارے لئے تمھارے دین کو مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور میں نے پسند کیا کہ تمھارا دین اسلام ہو ’’۔    (سورۃالمائدہ)

مکہ مکرمہ:نمرہ مسجد میں الشیخ عبدالرحمان بن السدیس نے خطبہ حج دیا،خطبہ کا آغاز اللہ کی حمدو ثنا کے ساتھ شروع ہوا۔انہوں نے کہا کہ اللہ نے جو نعمتیں دنیا میں تمہیں دی ہیں ان کے بارے میں آخرت میں سوال ہو گا۔اس کے بعد الشیخ نے کہا کہ اللہ  اسلام کے سوا کوئی سچا دین نہیں ہے۔اسی دین میں تمام انسانوں کیلئے بھلائی ہے۔ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔ایک انسان کا خون پوری انسانییت کا خون ہے۔اللہ کے احکامات پر پابندی کرنے والے دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو گے۔مسلمان اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں۔انصاف اور عدل اسلام کا بنیادی اصول ہے۔امت مسلمہ اپنے وقت کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔ایک وآقت میں تجارت اسلام کا بنیادی جز ہوتا تھا۔اے ایمان والوں ایک ہو جاؤ کیونکہ اسی میں سب کی بھلائی ہے۔فساد پہنچانے والوں کو فوراََ ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔آج اسلام پر دہشتگردی کی تہمت لگائی جاتی ہے،مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔دنیا کے تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں۔سب سے زیادہ حق والدین کا ہے۔والدین کی نافرمانی نہیں کرنی چاہیے۔

ان کے سامنے جھک جاؤ۔اپنی آعلم سے علماء کی ذمہ داری ہے لوگوں تک اسلام کی روشنی پھیلائی جائے۔علماء اپنے علم کے ذریعے عوام کو تخریب کاری سے دور لے جائیں۔اللہ ایک ہے اس کا رسول ایک ہے اور ہدایت کا سرچشمہ اللہ کا قرآن ایک ہے۔ اس لیے ایک ہو جاؤ۔اس لیے امت کو فرقہ بندی سے بچنا چاہیے۔اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لیں۔روئے زمین پر اسلام کی سربلندی تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔امت مسلمہ دوسروں کی طرف دیکھنے کی بجائے خود اپنے معاملات انجام دیں۔اہلِ قبلہ کو کافر قرار دینا غلط ہے۔جنہوں نے تزکیہ نفس کیا وہ کامیاب ہو گئے۔ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ظلم اور زیادتی کرنے والا آخرت کے دن جوبدہ ہو گا۔اللہ آپ کا حج اور اس کے مناسک کو قبول فرمائے۔ اور حرمین شریفین کی خدمت کرنے والوں کو بھی اجرو ثواب عظا فرمائے۔بیت اللہ امن کی جگہ ہے یہاں آنے والوں کو امن ملتا ہے۔بے شک اللہ اپنی صفات میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔ اس کے بعد دعا کی گئی جس میں اسلام کی بلندی کی دعا کی گئی۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *