قربانی کی فضلیت و اہمیت

قربانی کی فضلیت و اہمیت

(By: Syeda Nasreen Faheem)

۱۰ ذی الحجہ درحقیقت اسلام کی اس شاندار قربانی کی روح پروریادگار ہے جو اللہ کے خلیل نے اپنے جذبات ، خیالات ، مال و متاع ، اعزّہ و اقربا اور محبت ماسوائے اللہ کے ساے علائق (تعلاقات) توڑ کر ادا کی تھی یہ شیوہ تسلیم و رضا کی وہ مقدس  ہے جسے ذبیح اللہ نے جذبہ نیاز  مندی سے معمور ہو کو اپنی جان عزیز اور متاع نفس کی پرواہ نہ کرتے ہو ئے اپنےحلق پر چھری رکھوا کر نور ایمانی سے روشن کیا تھا اور نسل ابراہیمی اوراسماعیل علیہ السلام کی روحانی قربانی کے فدیہ کے بعد مقبول بارگاہ الہٰی ہو ئی ۔

وودینہ بذبیح عظیم

اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اسکے فدیہ میں دے کر اسے بچا لیا ۔

یہ قربانی کا خون جسے ہر سال فراخدلی سے بہا یا جا تا ہے اور ذبیح عظیم جس کی ہر مسلمان ذوق و شوق سے تیاری کر تا ہے ۔ درحقیقت اسلام کی اعلیٰ تعلیمات کی ایک واضح تمثیل ہے جسکے پر دے میں بتلا یا گیا ہے کہ ایمان بااللہ کا دارو مدار قربانی اور خون شہا دت پر ہے ۔ لہذا  مخصوص جانوروں کو مخصوص دنوں میں (یعنی دسویں ذوالحج سے بارہویں دوالحج تک)  تقرب الی اللہ اور ثواب کی نیت سے ذبح کر نا قربانی ہے یہ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے حضور ﷺ کو قربانی کا حکم دیا گیا ارشاد باری تعالی ہوا :

فصل لربک وانھر (الکوثر)

‘‘ترجمہ :  تو تم اپنے رب کیلئے نماز پڑھو اور قربانی کرو’’

قربانی احادیث کی روشنی میں :

۱۔  حضورﷺ نے ارشاد فرما یا کہ یوم نہر (دسویں ذی الحجہ)میں ابن آدم کا کو ئی عمل خدا کے نز دیک خون بہا نے یعنی (قربانی کر نے )سے زیا دہ پیا را نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنےسینگ ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گر نے سے قبل خدا کے نز دیک قبول ہو جا تا ہے لہذا اسے خوش دلی سے کرو۔

 (ابو داؤد ، ابن ماجہ) ۲۔  حضورﷺنے فرمایا کہ جس نے خوش دلی سے طالب ثواب ہو کر قربانی کی وہ آتشِ جہنم  سے حجاب (روک)ہو جائے گا ۔

۳۔  حضور عبد اللہ بن عمر ؓ  فرماتے ہیں کہ  حضور ﷺ مدینہ شریف میں دس سال رہے اور اس عرصے میں آپﷺ نے ہر سال قربانی فرمائی        (مشکوۃ ، ترمذی)

اسی لئے امت مسلہ ہر سال سنت ابراہیمی ادا کر تے ہو ئے

عمدہ ، نفیس بہترین اور تمام عیبوں سے پاک جانور کو اللہ کی راہ میں اطاعتِ اسماعیل علیہ السلام کر تے ہو ئے قربان کر تی ہے ۔ 

ذبح کر تے وقت اور ذبح کر نے کے بعد کی دعا:

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *