ایمان اور یقین کی کمزوری اور سبز باغ

تحقیق و تحریر :  رمشا شیراز ۱۱ فروری ۲۰۱۷      

! محترم قارئین

انسان کے پَاس سب سے زیادہ قیمتی شے اُس کی اپنی جان ہے جس کی وہ ہر طریقے سے حِفاظت کر نے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے حالانکہ ایک مُسلمان کے پاس اس کی سب سے زیادہ قیمتی شے اُس کا اپنا ایمان ہے جبکہ مسلمان کے لئے اپنی جان کی حیثیت ثانوی ہے۔

‘ایمان’ نظریات و عقائد کا ایک ایسا مجمو عہ ہے جو مُسلمان کی فکرو نظر کو اپنے اندر سمیٹتے ہوئے اس کی زندگی کے ہرعمل اور ہر پہلو کو ایک خاص انداز مہیا کر تا ہے ایمان ایک اسی دو لت اور خزانہ ہے جسے لوٹنے والا چور (شیطان) جو ہر وقت اس کوشش میں لگا ہوتا ہے کہ کسی طرح سے اس مسلمان کو اسکی ایمان کی دولت سے محروم کردوں۔ اسی لئے اس نا یاب اور قیمتی متاع کی حفاظت کر نا بھی اتنا ہی مشکل ہے ۔

ہما را معاشرہ بنیادی طور پر ایک اسلامی معاشرہ ہے جو کہ اسلام کے عین اصولوں و قوانین سے نکلتا ہوا نظر آتا ہے مگر افسوس کی بات ہے انفرادی طور پر ہم میں اسلام کے نام لیوا مسلمان تو ملیں گے لیکن اسلام پر عمل پیرا مسلمان ڈھونڈنے سے بھی بمشکل نظر آسکیں گے کیونکہ ہما را معاشرہ ہر گزرتے ہوئے دن کے ساتھ اخلاقی اقدار سے دور ہو رہا ہے جس کی اصل وجہ عقا ئد کی کمزوری اور ایمان کی ناپختگی ہے ۔

اللہ رب العالمین نے  ہر شے کو ایک مخصوص فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر انسان، قوم، نظریہاور مذہب ایک خاص فطرت کے حامل ہوتے ہیں اسی طرح اسلام کی فطرت ہے کہ اسے غالب ہو کر ہی رہنا ہے اور جب کو ئی قوم یا فرد اسلام کے ساتھ اپنا تعلق جوڑ لیتے ہیں تو اس کی نا کا می اور کا میابی کا انحصار اسلام پر عمل پیرہ ہونے یا اس سے رُو گردانی کر نے پر ہے ایسا ممکن ہی نہیں کہ کو ئی شخص یا معاشرہ اسلا م کا نام لے اور اس سے رو گردانی کا بھی مر تکب ہو لیکن پھر بھی اسے ذہنی اور روحانی تسکین کا حاصل ہو کیونکہ اِسلام اپنی فطرت میں بالکل ہی الگ حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام ایسا دروازہ ہے کہ جس میں داخل ہونے کے بعد ایمان کی راستے پہ چلتے ہو ئے جنّت حاصل کی جاتی ہے لیکن اگر اسلام کے دروازہ میں داخل ہونے کے بعد کو ئی شخص ایمان کی راہ سے بھٹک جائے تو منزل کا حصول انتہائی کھٹن ہو جا تا ہے ۔

اِس اِیمان کے راستے کی زادِراہ جز ئیات پر مشتمل ہے جو کہ ہم سب کے انفرادی اور اجتما عی غرض یہ کہ ہَر طَرح کے معاملات کا احاطہ کیے ہو ئے ہے لیکن ہم سب صرف اپنے احاطہِ تحریر میں دو ہی جز لے کر آئیں گے یعنی

۱۔ ایمان باللہ

۲۔ ایمان بالآخرہ

اگر ہم سب ایمان با للہ پے توجہ دیں تو اس میں تو حید کا زبانی اقرار اور ہر قسم کے شِرک کا انکار لاَزمی آتا ہے یعنی ایمان کا یہ جز انسان کو ایسان بنا کر تمام دنیا اور اس میں پائے جانے والے تمام تر لا یعنی اور جھوٹے خداؤں سے الگ کر کے اُسے اپنے حقیقی خالق و مالک کی طرف لے آتا ہے اور یہ عقیدہِ تو حید کا اثر ہے کہ انسان کے دل و دماغ پر ہمہ وقت اللہ رب العالمین کی کبریائی اور عظمت چھائی رہتی ہے جو کہ اس کے نفس کو قابو رکھنے میں مدد دیتا ہے اور کسی بھی قسم کی سر کشی سے باز رکھتا ہے۔ لیکن جَب عقیدہِ تو حید میں بگاڑ آجاتا ہے اور اس کی جگہ نا پاک اور پلید شرکیہ عقائد لے لیتے ہیں تو ایک مسلمان کے دل سے بَراہِ راست اپنے مالک اپنے خالق اور اپنے رازق کا ڈر دل سے نکل جا تا ہے اور پھر اس کے اور اللہ رب العالمین کے درمیان کسی کا وَاسطہ آجا تا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے ذات کو برا ہِ راست اللہ رب العالمین کی قدرت سے با ہر سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور یہی عقیدے کا اصل بگاڑ ہے جو معاشرے میں گناہ اور بے راہروی کو عام کر دیتا ہے ۔ ایمان با لآخر ہ میں انسان کا اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر موت کے دہلیز سے گزرتے ہو ئے دائمی عالم میں جا نا ہے یعنی انسان کو یہ بات باآور کروانا مقصود ہے کہ اس دنیا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نہیں بلکہ کچھ مخصوص وقت کے لئے ایک خاص مقصدِ حیات دے کر بھیجا گیا ہے اور جب یہ وقتِ خاص ختم ہو جائیگا تو اُسے اس کا حساب و کتاب دینے کے لئے اُس دنیا میں وَاپَس بلا یا جائیگا یعنی اگر عقیدہِ آخرت پَر ہمارا کامل ایمان ہے تو اس کی زندگی کے تمام تر معاملات ہرگز آزادانہ نہیں ہوں گے بلکہ ایک مخصوص لائحہِ عمل کے تحت اپنی زندگی گزاریں گے۔

اگر ہم للہ پے کامل ایمان اور ایمان با لآخرہ یعنی کہ عقیدہِ تو حید اور عقیدہ آخرت کے انسانی حیات پر ہونے والے اثرات کا مطالعہ کریں تو یہ بات ضرور واضیح ہو گی کہ یہ انسان کو سیدھے راستے پر رکھنے کا سب سے بڑا اور اہم ذریعہ ہے اور اگر ہمارا کا ایمان کھوکلا پڑ جائے تو معاشرے میں کئی ایک برائیاں اپنا جنم لینا شروع کع دیتی ہیں یعنی دائرہِ اسلام میں داخل ہونے کے بعد ایمان ہی حقیقی معاملہ ہے جو اس زندگانی کو گزارنے کا اصل طریقہ کار اور منشائے الٰہی سکھا تا ہے یعنی کلمہ طیبہ پڑھنےکے بعد انسان مسلمان تو ہو جا تا ہے لیکن مؤمن نہیں بنتا جیساکہ ارشادِ ربانی ہے کہ بدویوں نے کہا ہم ایمان لےآئے ، کہہ دے تم ایمان نہیں لا ئے اور لیکن یہ کہو کہ ہم مطیع ہو گئے اور ابھی تک ایمان تمھا رے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔  اگر انسان کا اس چیز پر کامل ایمان ہو کہ اللہ رب العزت سب سے بز رگ و بر تر ہیں اُ ن کے لئے یہی ساری عاجزی و انکساری ہے وہ ایک ایسی ذات ہے کہ جس کا ہر حکم ماننا ہم پر عین فرض ہے ۔ اور یہ کہ اللہ رب العزت کی نافرمانی کی وجہ سے دنیا و آخرت کی نا کامی لازمی مقدر بنے گی اور اگر ہما را اس چیز پر بالکل پختہ یقین ہو کہ اس دنیا میں نیک اعمال کر نے کی وجہ سے ہمیں عنقریب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں داخلا عطا  کیا جائیگا جبکہ بُرے اعمال کی صورت میں جہنم جیسا بُرا ٹھکانہ ہما را مقدر ہو گا تو ہم ضرور با لضرور خود کو نیکی اور عزت کی را ہ پر لے آئیں گےلیکن اصل بات تو یہ ہے کہ قولی اقرار کے باوجود بھی  ہم فعلاً اللہ رب العزت کو اپنا رب اور آقا ماننے سے انکار کیے ہو ئے ہیں اس طرح ہم ایمان با للہ یعنی کہ عقیدہ تو حید کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں ۔

جبکہ ایمان با لآخرہ یعنی کہ آخرت پر ایمان سے متعلق بھی ہما را رویہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ۔

اللہ رب العالمین کو غفور و رحیم جان کر ہم غلطیوں پر غلطیاں کئے جاتے ہیں  اور پھر ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا عالم یہ ہے کہ ہما را نفس ان خطاوں سے بھری زندگی کو نہ تو خیر باد کہنے پر آمادہ ہو تا ہے اور نہ ہی تو بہ و استغفار پر ۔

یہ سب کچھ ہما رے ایمان کی کمزوری ہی کی وجہ ہے کہ ہما را عبا دت میں دل نہیں لگتا ہے اور نہ ہی ہما رے آگے امر با لمعروف ونہی عن المنکر کی کوئی حیثیت ہے یہی وجہ ہے کہ ہما را دل اللہ کی نا فرمانیوں میں خوش رہتا ہے کیونکہ ہم عملی طور پر ایمان با للہ اور ایمان با لآخرہ سے انکاری ہو چکے ہیں ۔

اگر ہمیں اللہ رب العالمین کا اصلی خوف ہو تو ایسا کون سا انسان ہے جو پھر بھی اپنی ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی پر قائم رہے ایسا کو ن انسان ہے کہ جسے اس بات کا یقین ہو کہ قیامت والے دن میرے کا نوں میں پگھلا ہوا سیسہ اور تانبا ڈالا جائے گا لیکن پھر بھی وہ گا نے اور موسیقی سُننے سے باز نہ آئے۔

اگر ہمیں اس بات کا بھی یقین ہو کہ ہماری زبان کا ٹیڑھا پن ہمیں اوندھے منہ جہنم میں گرا ئے جا نے کا سبب ہو گا اس کے باوجود ہم جھوٹ بھی بو لیں اور زبان سے چغلی اور غیبت بھی جاری جاری رکھیں اور اسے کو ئی گناہ بھی نہ سمجھیں ۔ اگر ہمیں اس با ت کا بھی یقین ہو کہ

جو انسان اس طریقے سے مرا کہ نہ کبھی جِہاد کیا ، نہ اس کے لئے کبھی دل سے خواہش کی تو وہ منافقت کے ایک شُعبہ پر مرا (صحیح مسلم) اور مُنا فق تو جہنم  میں ہی جائیگا لیکن پِھر بھی ہَم میدان میں نہ نکلیں اور نہ ہی جہاد کی تر بیت حاصل کریں ۔

یہ کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں اس بات کا بھی یقین ہو کہ ‘‘نماز میں سُستی کر نے والوں کے لئے جہنم کی وادی ویل ہے ’’ اور پھر بھی نماز نہ پڑھیں۔

یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں اِس بات کا بھی یقین ہو کہ ‘‘ہر نفس نے موت کا ذایقہ چکھنا ہے ’’ لیکن اس کے باوجود بھی ہم اس دنیا میں طویل تر زندگی گزارنے کے خواہشات کر تے پھریں۔

 بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہمیں اللہ رب العالمین کے اِنعام و اِکرام یعنی بہترین و عمدہ جنت پر یقین ہو لیکن پھر بھی ہمیں دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے محبت پر اسے تر جیح دیں جیسا کہ

لو گوں کے لئے نفسانی خواہشوں کی محبت کو مزین کر دی گیا ہے جو عورتیں اور بیٹے اور سونے اور چَاندی کے جَمع کئے ہو ئے خَزانے، نشان لگا ئے ہو ئے گُھوڑے اور کھیتی اور مویشی میں اس دنیا کی حیاتی کا سامان ہے اور اللہ ہی ہے جس کے پاس اچھا ٹھکا نا ہے (ال عمران 14)

جبکہ حقیقت بات یہ ہے کہ اگر ہم اللہ رب العالمین کی شان و عظمت اور صفات مبارکہ کو صحیح معنوں میں پہنچان لیں تو ہما را نفس ہر طرح کی برائی سے دور رہتے ہو ئے دوسروں کے خلاف کینہ، بغض اور حسد کو بھی دور کر دیگا عقیدہِ آخرت پر ایمان ہی ہمیں برائیوں سے بچا کر نیکی کی مشکل راہوں پر ہمت اور صبرڈالتا ہے ۔

غرض یہ کہ مسلمان معاشرے میں برئیاں اور گنا ہوں کے بڑھتے  رحجان کی اصل وجہ ایمان باللہ اور ایمان با لآخرہ میں مضبوطی نہ ہونا اور ساتھ ساتھ دل کو تسلی دینے کے لئے  یہ سبز باغ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ معاف کر نے والا ہے  ۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *