دہی کے حیران کن فا ئدے 

تحریر و تحقیق:  سیدہ نسرین     26  جنوری 2017     

دہی زبردست خصوصیا ت کی حامل غذا 


کیلشیم سے بھر پور اور پرو بائیو ٹک سے لیس دہی دودھ سے بننے والی ایک بہترین غذا ہے ۔ اسے ڈیری پرو ڈکٹس کا ہیرو بھی کہا جا تا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے ۔ اسے سادہ بھی کھا یا جا تا ہے ۔ اس کے علاوہ سلاد کی ڈریسنگ اور مشروب کے طور پر بھی دہی کو پسند کیا جا تا ہے ۔ سردی ہو یا گرمی دہی کا استعمال پر موسم میں کیا جا تا ہے ۔دہی سے ہمارے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہتے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دودھ سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے۔ دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ ہے ۔ صحت پر دہی کے بے شمار مثبت اثرات پڑتے ہیں ۔ان میں سے چند درج ذیل ہیں : 

نظام انہضام کے لئے مفید : 
دہی میں مو جود ضروری غذائی اجزاء آسانی سے انہضامی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔ یہ دیگر غذاؤں کو بھی ہضم کر نے میں معاونت کر تا ہے ۔ دہی جسم میں پی ایچ بیلنس بر قرار رکھنے میں مدد کر تا ہے ۔ دہی معدے میں تیزابیت نہیں ہونے دیتا ۔ اس کے استعمال سے معدے کی کئی تکالیف دور ہو تی ہیں ۔ 

ہڈیوں اور دانتوں کی مضبو طی : 
دہی میں مو جود کیلشیم اور فا سفورس ہڈیوں کو مضبوط کر تا ہے ۔ کیشیم اور فا سفورس ہڈیوں اور دانتوں کے لئے بے حد ضروری ہے ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹو پروسس جیسے مرض سے بچا تا ہے ۔ 

وزن کم کر نے میں معاون : 
دہی میں موجود کیلشیم میں ہائپر ٹینشن اور موٹاپے جیسے امراض سے پیدا ہو نے والے مسائل کو روکتا ہے ۔ اور تحقیق کے مطابق اگر روزانہ 18اونس دہی کھایا جا ئے تو اس سے پیٹ کی چربی گھلتی ہے جس سے انسان کا وزن نہیں بڑھتا ۔ 

دل کے امراض میں مفید :
آج کل امراض قلب میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے اس لئے دل کی صحت کے لئے دہی کا استعمال نے حد مفید ہے ۔ دہی جسم میں کو لیسٹرول کو کنٹرول کر تا ہے ۔ یہ پا ئپر ٹینشن اور ہا ئی بلڈ پریشر جیسے امراض سے بھی بچا تا ہے ۔ 

بہترین بیوٹی پروڈکٹ : 
دہی سے جلد اور بال خوبصورت ہو جا تے ہیں ۔ اسے جلد اور بالوں پر لگا یا بھی جا تا ہے ۔ جلد اور بالوں کو خو بصورت بنانے والے کئی گھریلو ٹوٹکوں میں دہی کا استعمال کیا جا تا ہے ۔ اگر صرف دہی سے ہی چہرے کا مساج کیا جائے تو یہ وائیٹنگ بلیچ کا کام کر تا ہے اور جلد نرم و ملا ئم ہو جاتی ہے ۔ 

بالوں کی خشکی سے نجات : 
دہی بالوں کی صحت اور مضبوطی کے لئے تو مفید ہے بلکہ اس سے بالوں کی خشکی بھی دور ہو جاتی ہے ۔ دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ خشکی پیدا کر نے والے فنگس کو ختم کر تا ہے ۔ دہی کو مہندی کے بالوں پر لگا نے سے خشکی سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل ہو تا ہے ۔ اس کے علاوہ اسے کنڈیشنر کے طور پر استعمال کیا جا تاہے ۔ 

دہی دودھ کا متبادل : 
اکثر لو گوں کو دودھ پینے سے معدے کی تکلیف کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔ کچھ لو گوں کے پیٹ میں گیسسز بنے لگتی ہیں اور کچھ لوگوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے ۔ البتہ دہی سے آپ کودودھ کی تمام غذائیت بھی ملتی ہے اور اس سے نظام انہضام بھی ٹھیک ہو جا تا ہے ۔ 

قوتِ مدافعت میں اضافہ : 
انسان کی قوت مدا فعت اسے تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔ انسان کی وقت مدافعت جتنی زیادہ ہو گی وہ اتنا کم بیمار پڑے گا ۔ دہی کئی قسم کی بیماریوں کو پیدا ہو نے سے روکتا ہے ، یہ جسم میں ایسی حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے جو کسی بھی جراثیم کو جسم کوکمزور کر نے یا کسی بھی بیماری کو ہو نے سے روکتی ہے ۔ دہی قدرت کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ اسے لازماً اپنی رو زانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں انشاء اللہ تعالیٰ اس سے آپ کو حیرت انگیز فوائد حاصل ہونگے اور آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔ 

دہی سے ہا ضمے کی خرابیاں دور : 
دہی دراصل دودھ سے بنائی جا نے والی ایک ایسی خمیری غذا ہے جو قدرے ترش ہو تی ہے۔ اس کی ابتداء کہاں سے ہو ئی ؟ 
یہ تو معلوم نہیں لیکن انگریزی میں کو الفاظ یو گرٹ ( Yogurt) استعمال ہے وہ ترکی زبان کا لفظ ہے ۔ دنیا بھر میں دودھ کو تخمیری شکل دے کر اور بھی غذائیں بنائی جا سکتی ہیں جس میں Kefirاور Kumissشامل ہیں تاہم ان غذاؤں کے بر عکس دہی کو عموماً خالص دودھ سے بنا یا جا تا ہے اس کو ایک مخصوص چھڑ نما جراثیم Lactobacillus Bulgaricusسے کھٹا کیا جا تا ہے ایک غذا کے طور پر دہی پروٹین کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور اس میں وہ تمام وٹا منز اور منرلز پا ئے جا تے ہیں جو دودھ میں ہو تے ہیں تا زہ دہی کو جس میں زندہ جراثیم مو جود ہو تے ہیں اکثر و بیشتر بطور دوا استعمال کیا جا تا ہے ۔ ویسے بھی دہی کو عام طور پر غذا میں شامل رکھنا چا ہئیے تا کہ آنتوں میں موجود صحت بخش جراثیم کی تعداد بڑھ سکے اور ہمارا جسم انفیکشن سے مقابلے کے قا بل رہے ۔ اگر چاہیں تو گھر پر بھی بہت آسانی سے دہی بنا سکتے ہیں ۔ رات کو دو دھ گرم کر کے اسے ٹھنڈا کر لیں اور پھر اس میں ایک چمچہ دہی ڈال دیں ۔ صبح کو سارا دودھ دہی میں تبدیل ملے گا ۔ 

خصوصیا ت : 
تا زہ دہی پھپھوندکش (Antifungal) ہو تا ہے اور اسے سفید دانے یا چھالے پیدا کر نے والے مرض Thrushکے علاج میں استعما ل کیا جا سکتا ہے ۔ 
دہی سے کو لیسٹرول کی سطح کم کر نے میں مدد لی جا سکتی ہے ۔ 
دہی آنتون میں میں صحت بخش جراثیم کی افزائش کی حوصلہ افزائی کر تا ہے اس سے جسم میں غذائیت بخش اجزا کے انجذاب میں مدد ملتی ہے اور انفیکشن سے بچاؤ ہو تا ہے ۔ 
دہی جسم میں وٹا من (بی) کی پیدا وار بڑھانے میں معا ونت کر تا ہے ۔ 
دہی سے آنتوں کو تحریک ملتی ہے اور قبض کا خاتمہ ہو تا ہے ۔ 
دہی سرطانی خلیات کی افزائش روکتا ہے اور اسے کنٹرول کر تا ہے ۔ دہی سے ہاضمہ بہتر ہو تا ہے ۔ 

استعمالات : 
اگر کسی بیماری کے علاج میں اینٹی بایونک دوائیں آپ کے استعمال میں ہیں اور آپ ان کا کورس مکمل کر رہے ہیں ، تو اسکے ساتھ تازہ دہی بھی کھائیں تا کہ ان دو اؤں سے آنتوں میں موجود صحت بخش جراثیم اگر ہو نے لگیں تو ان کی کمی پو ری ہو سکے دو سے تین ہفتے تک روزانہ کھانا معمول بنا لیں ۔ 
جسم کے وہ حصے کو پھپھوند سے ہو نے والی بیماری Thrushسے متاثر ہیں وہاں ہی لگائیں ۔ اسے اندرونی طور پر بطور حقنہ (Douche) بھی استعمال کیا جاسکتا ہے دہی رو زانہ کھانے سے امراض قلب سے بچت ہو تی ہے ۔ چہرے کی رنگت نکھارنے کیلئے دہی کا ماسک لگا یا جا سکتا ہے ۔ یہ جلد کو صاف و شفاف اور چکمدار بنا تا ہے اور قدرتی موائسچرائزر گردانا جا تا ہے ۔ اگر قبض کی پرانی شکایت ہو تو دہی کا استعمال معمول بنالیں ۔ یہ بد ہضمی بھی دور کر تا ہے ماہرین طب کینسر سے تحفظ کے لئے بھی دہی روزانہ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ دہی کی ایک خوبی یہ ہے کہ دودھ کے مقابلے میں زود ہضم ہے ۔ جن لو گوں کو دودھ راس نہیں آتا وہ دہی کے ذریعہ کیلشیم کی ضرورت کو پورا کر تے ہیں ۔ آنتوں کی اندرونی دیواروں پر اگر وائرس یا الرجی سے زخم بن جا ئیں تو دہی ان کے اند مال میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے ۔ 

احتیاط
دہی میں اگر کسی قسم کی مٹھاس شامل کر دی گئی ہے تو بھر اس سے خاطر خواہ طبی فوائد حاصل نہیں ہو سکیں گے ۔ بہترین نتا ئج کے حصول کے لئے گھر پر تیار شدہ سادہ دہی استعمال کریں ۔ آپ چاہیں تو ذا ئقے کے لئے اس میں خالص شہد اور کیلا شامل کر سکتے ہیں ۔ 

دہی کے چار حیرت انگیز فائدے جو شاید آپ نہیں جا نتے : 
عمدہ اور بہترین دہی کا پہلا اور آخری وصف یہ ہے کہ بخوبی جما ہوا ، ذائقہ میں مائل بہ ترشی ، لذیذ اور مرغوب طبع ہو تا ہے ۔ دہی جو وصف سے متصف کر نے کے لئے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ دودھ کے کاڑھنے میں بداعتدالیاں نہ کی جائیں اور صحیح اصول کے تحت جو شایا جا ئے ۔ نیزدودھ کس کا دہی جما یا جا ئے ، اس کی حرارت 104درجے کی حرارت دہی کے لئے نہا یت موزوں اور مناسب ہے اور جراثیم مفیدہ اس حرارت سے زائل اور ضائع نہیں ہو تے ، اس سے کم حرارت دہی جمانے کی منا فی ہے ۔ کیونکہ جس طرح حرارت کی زیادتی اور شدت دہی جمانے والے جراثیم مفیدہ کو بلاک کر ڈالتی ہے ۔ 
دہی افعال و خواص 
دہی کامختلف اعضاء پر جو اثر پڑتا ہے ، اس کو فرداً ذیل میں بیان کیا جا تا ہے ۔ 
دانت
بعض اوقات مسوڑوں میں رطوبات صفایہ جمع ہو کر ان کو متورم کر دیتی ہیں اور دانت ہلنے اور درد کرنے لگے جا تے ہیں ۔ اسی طرح بعض دانتوں کے چھلکے اُتر جا تے ہیں جس کی وجہ سے دانت بد نما ہو جا تے ہیں اس بارے میں دہی نہا یت عمدہ اور مؤثر دوا ثابت ہو تی ہے ۔ اس کے استعمال سے اول تو ایسی موذی رطوبات پیدا ہی نہیں ہو تیں اور اگر پیدا بھی ہو جائیں تو ان کی مضر رساں کیفیت کا قلع قمع ہو جاتا ہے ۔ دانتوں کی حفاظت اور انہیں ہلنے سے بچا نے کے لئے دہی کا استعمال نہا یت مفید ہے ۔ 
غدود :
دہی سے لعاب پیدا کرنے والی گلٹیوں کے فعل پر اچھا اثر پڑ تا ہے اور ان کے جسموں کی اصلی حالت پر قائم رکھتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ لعاب دہن کو ہضم غذا اور اعانت تغذیہ پر کس قدر قدرت حاصل ہے ۔ نیز یہ بھی کہ لعاب دین میں ترش و نمکین مادے ہوا کر تے ہیں ، جس قدر یہ رطوبت لعابیہ زیادہ مقدار میں پیدا ہو گی ، اسی قدر ہضم معدہ اچھا اور عمدہ ہو گا چنانچہ غذا اور اجزاء کی وجہ سء لعاب دہن سفیدی چشم کو رفع کر تا ہے ۔ اس کے علاوہ دہی منہ کا لعاب پیدا کر نے والی گلٹیوں کو مضبوط اور لعاب کے زیادہ مقدار میں پیدا کر نے کی وجہ سے ہضم میں مدد کر تا ہے ۔ بدن کے دیگر غدود بھی اس سے یکساں طور پر مشتفید اور طاقت حاصل کر تے ہیں ۔ 
دماغ : 
دہی دماغ کے لئے اعلیٰ ترین مسکن غذا ہے ۔ سر کے گرم و خسک امراض مثلاً مالیخولیا ، مراق ، سہر ، صداع، صداع صفرادی کا بوس وغیرہ میں عرق شیر ، عرق گا جر اور ناء الجبین وغیرہ جیسی کب دواؤں کی طرح فائدہ مند ثابت ہو تا ہے اور دہی کی بالائی سر ملنا باعث طیب دماغ اور نیند آور ہے ۔ بے خوابی کو دور کر نے میں روغن کدو کے قائم مقام سمجھتا ہے۔ 
آنکھیں : 
آنکھوں کے امراض میں جو گرمی اور خشکی کی وجہ سے پیدا ہو تے ہیں ، دہی کا استعمال نہا یت مفید ہے ۔ اس طرح ان امراض چسم میں بھی دہی بھایت نفع بخش ہے ۔ تندرستی کی حالت میں استعمال کر تے رہنے سے آنکھ دکھنے سے محفوظ رہتی ہے ۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *