ایک خاموش بیماری

تحریر و تحقیق:  سیدہ نسرین     25  جنوری 2017     

                     محترم قارئین ! 

سائنس کی نت نئی ایجادات نےآج بلا شبہ دنیا کو گلو بل ویلیج بنا دیا ہے آج کے اس  ترقی یافتہ اور سائنسی دور میں جہاں پر کام کرنا   نہا یت سہل ہو گیا ہے وہیں پر روز بہ روز ہو نے والی ایجادات نے کئی گھمبیر مسائل بھی کھڑے کر دئیے ہیں ۔ جہاں بے شمار ایجادوں نے انسانوں کی روز مرہ زندگی کو سستا اور آسان کیا وہیں پر یہ ایجا دات نے خطر ناک صورتحال بھی اختیار کی ۔ اور انسانوں کا جینا بھی دُبر کیا ان ہی ایک نئی ایجادات کی دنیا میں مو بائل فون بھی ہے آج سے تقریبا   15سے  20سال قبل موبائل فون لو گوں کے لئے اتنی اشد ضرورت نہیں بنا تھا ۔ لوگ   Land Lineیعنی PTCL کا استعمال کر تے تھےپو رے گھر میں ایک ٹیلی فون ہو تا تھاجس کا ہر مہینے با قاعدگی سے بل آتا تھا ٹیلی فون کے حوالے سے یہ بھی تا ثر ہو تا تھا کہ اس کو صرف بڑے اپنے اہم دفتری معاملات یا پھر دوستوں ، رشتہ داروں کے حال احوال جا ننے کے لئے استعما ل کرتے تھے ۔ اور اس وقت با ہر آنے جا نے  میں فون کی بھی ضرورت نہیں پڑتی تھی یا  تو پھر دفتر میں پہنچ کر ٹیلی فون کا استعمال کیا جا تا تھا یا پھر گھر میں لیکن جناب ! یہ تو بہت پرانی بات ہو گئی جسکے تصور سے ہی بڑوں کو تو کیا بچوں کو بھی ہنسی آجاتی ہےاور آگے سے یہ سوال ہو تا ہے کہ کیا واقعی ایسا ہو تا تھا ؟ تو بھئی یہ تو پرانی بات ہے ۔

آج تو اس موجودہ  دور میں بچے بچے موبائل فون کے بغیر اپنی زندگی کو ہی گزارنا   مشکل سمجھتے  ہیں جب تک Android فون ہا تھ میں نہ ہوں   Life Style ہی میں کمی سمجھی جا تی ہے دقیہ نوسی سمجھا جا تا ہے اور والدین بھی فخر سے بچے کوساتھویں ، آٹھویں اور میٹرک پاس کر نے میں انعام کے طور پر مو بائل فون کا تحفہ دیتے ہیں یہ جانے بغیرکہ وہ اپنے بچوں کو ایک خاموش بیماری کی طرف دھکیل رہے ہیں اور ایک ایسی بیماری جسکوعموماً ہمارے معاشرے میں بیماری نہیں سمجھا  جا تا لیکن کو ئی چیز بھی ہو  اُسکے مثبت اور منفی دونوں ہی اثرات ہو تے ہیں ۔ لیکن عموماً تجربے سے   یہ ثابت ہے کہ منفی اثرات کو  لوگ زیادہ جلدی قبول کر تے ہیں ۔ جیسا کہ مو بائل فون کے پیدا کر دہ مسائل میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ لوگ موقع بے موقع تصویر  بنا نے کے شوقین ہو گئےہیں اور اب جب سے Selfies کا شو شہ شروع ہو ا ہے تو جسکو دیکھو  جدھر بھی موقع ملے کھڑے ، بیٹھے ، لیٹے  Selfie بنا تے نظر آتے ہیں اور بعض اوقات تو اسی  Selfies کے شوق نے کئی زندگیاں بھی چھین لیں لیکن   Selfiesکا بھوت اترے نہیں اتر رہا ۔ جہاں موقع ملتا ہے وہ کسی کی بھی تصویر یا ویڈیو بنا لیتا ہے چا ہے سامنے والا اس پر راضی ہو یا نہ ہو۔ خاص  طور پر   یہ شوق اس وقت غیر انسانی روپ دھا ر لیتا ہے اور حد درجہ خطر ناک ہو جاتا ہے۔

جب کہیں بم دھماکہ ،    Accidentیا کو ئی سانحہ رونما ہوا اور موقع پر مو جود افراد ہلاک ہو نے والوں کی منتقلی اور زخمیوں کی مدد کرنے   ، ہسپتال لےجانے کے بجائے ان کی تصویر یا ویڈیو بنا نے میں مشغول ہو جاتے ہیں یقیناً یہ بے حسی کی انتہا اور ایک ظالمانہ عمل ہے ایسا عمل کر نے والوں کو خود سوچنا چا ہئیے کہ اگر خدا نخواستہ وہ کبھی کسی حادثے یا سانحے کا شکار ہو جائیں اور لوگ ان کی مدد کر نے کے بجائے ان لمحات کو محفوظ کر نے میں مصروف رہیں تو ان کے خود کے دل پر کیا گزرے گی؟؟ اسکے ساتھ ہی ساتھ موبائل فون سے تصویریں بنا نے کا شوق سخت نقصان دہ اور مختلف جسمانی عوارض کی صورت میں بھی ظاہر ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ اسمیں سے نکلنے والے شعاعیں نقصان وہ ہو تے ہیں ۔

                                جیسا کہ ایک اطلاع کے مطابق تین سالہ بچے کے والد کے دوست نے اپنے موبا ئل سے جب بچے کی تصویر بنائی کو فلیش لائٹ بند کرنا بھول گیا جسکے بعد بچے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور پھر دیکھنے میں جب دقّت محسوس ہو ئی تو والدین ڈاکٹر کے یہاں لے گئے جہاں جا کر یہ پتا چلا کہ بچے کی ایک آنکھ تیز فلیش لائٹ کی وجہ سے نا بینا ہو گئی ۔ ڈاکٹرز کے مطابق تقریباً چار سال کی عمر تک بچے کی آنکھ کے قریب سے کیمرے کی فلیش لا ئٹ پڑنے سے آنکھ کے ریٹینامیں موجود میکیولا (Macula) شدید متا ثر ہو تا ہے۔ جسکے سبب بینا ئی ضائع ہو نے کا بہت زیادہ خدشہ ہو تا ہے اور یہ ایک نا قابلِ علاج مسئلہ ہے ۔ اس عمر تک بچے کی آنکھ میں میکیولا پو ری طرح نشوونما نہیں پا تا  اسلئے یہ اس قدر تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتا ۔  

ڈاکٹروں نے لو گوں کو ہدایت کی ہے کہ چار سال کی عمر سے قبل بچے کی تصاویر بنا نے سے پہلے پو ری طرح یقین کر لیں کہ ان کے کیمرے کی فلیش لائٹ بند ہے ورنہ ان کا بچہ عمر بھر کے لئے  نا بینا بھی ہو سکتا ہے اسکے علاوہ ہر وقت بلا ضرورت بچوں کے ہاتھوں میں Wi Fi  کی سہولت کے ساتھ مو بائل فون دینا بھی بہت ساری بیماریوں کے جنم لینے کا باعث بنتا ہے تو استعمال ضرور کریں مگر حد سے زیادہ تجاوز  نہ کریں اور عام طور پر کہتے ہیں نا   بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں تو یہاں پر اس جملے پر ضرور عمل کریں ۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *