خوشیاں اور غم لئے ۲۰۱۶ کا سورج غروب ہوگیا۔

تحریر و تحقیق:  سیدہ نسرین   ۳۱ دسمبر ۲۰۱۶     

محترم قارئین ! آہ ! ۲۰۱۶ بھی گزر گیا جہاں ہمارے بہت سے ہر دلعزیز شخصیات اس دنیا سے اپنے چاہنے والوں کو ہمیشہ کے لیئے غمزدہ چھوڑ گئے وہیں ہمارے ملک کے نامور شوبز شخصیات کی زندگیوں کو ہمیشہ کے لیئے ان کے خوابوں کے ہمسفر سے بھی جوڑ گیا۔یوں ۲۰۱۶ کہیں خوشیاں بکھیرتا رہا اور کہیں غموں کے پہاڑ توڑ گیا لیکن آخر آج ۳۱ دسمبر کی شام کو ۲۰۱۶ کے سورج نے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ہمیں الوادع کہے دیا۔لیکن اسکے ساتھ ہی ساتھ اب وہ افراد بھی ہم سے ہمیشہ کے لیئے رخصت ہوگئے جنھوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر لوگوں کے دلوں کو اپنے شکینجہ میں لیا ہوا تھا اور جو لوگوں کے دلوں میں گھر کرنے کے فن سے بخوبی واقف تھے۔بد قسمتی سے ۲۰۱۶ ان لوگوں کی سانسوں کا آخری سال ثابت ہوا اور ان ہر  دلعزیز لوگوں کو اپنے ساتھ لے گیا۔۲۰۱۶ کے آغاز سے لے کر دسمبر تک بہت سے علمی و ادبی ،فنکار ،سیاست دان۔۔۔ مثلاً فاطمہ ثریا بجیا، عبدالستار ایدھی صاحب، علامہ شاہ تراب الحق قادری، قوال امجد صابری،جناب جہانگیربدر، شمیم آرء، نصیر بھائی، قندیل بلوچ، شہلیلا بلوچ، نیشاء ملک، جنید جمشید، ماجد خلیل، جناب انتیظار حسین، صاحب ذادہ یعقوب خان، جناب عارف منصور، ندا فاضلی، سیدانور قدوائی، توقیر کمالوی، شبیر بیدار بھٹو، رؤف رضا، برہان الدین حسن، فطرت قریسی، یاور حیات، ثاقب انجان، ماسٹر غلام بنی بابا  
وغیرہ اس دار فانی سے ہمیشہ کے لئے کوچ کرگئے. “انااﷲ و انا الیہ راجعون”. میرا اپنے اس آرٹیکل میں سب پر کچھ کلمات لکھنا تو مشکل ہوجائے گا اس لئے چند  شخصیات کا ذکر کرتی ہوں اور باقی تمام محرومین کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں ۔معزز قاریئن ! ۱۰ فروری ۲۰۱۶ کا دن وہ دن تھا جب ہمارے ملک کی سب سے زیادہ ہردلعزیز فاطمہ ثریا بجیا ہمیشہ کے لیئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں ۔ادب اور سماجی خدمات کی دنیا میں سب سے معروف اور ہر دلعزیز شخصیت تھیں۔شاید ہی کو ئی ایسا ہو جو  ان سے ملنے کے بعد انکے گن نہ گاتا ہو ہر ایک سے محبت سے ملنے والی ۱۰ فروری کو  ہمیشہ کے لیئے ہمیں سوگوار کرگیئں مگر آپ کی علمی خدمات آپ کی محبت ،خلوص اور اپنے کام سے لگن کی مثالیں ہمیشہ زندہ رہیں گیئں ۔

اسی طرح ایک اور دلخراش سانحہ رمضان شریف ۲۲ جون ۲۰۱۶ میں پیش آیا جس میں ہم سب کے ہردلعزیز ،نامور بین الاقوامی شہرت یافتہ قوال امجد صابری بہیمانہ دہشت گردی کا نشانہ بنے اور موقع پر ہی جام شہادت نوش کیا۔اور اپنے پیچھے کروڑوں لوگوں کو سوگوار کرگئے آپکی پڑھی ہوئی قوالیاں اور نعتیں ہمیشہ مقبول عام ہویئں ۔خوش الحانی آپکو  اپنے والد اور چچا سے ورثے میں ملیں تھیں جن کا امجد صابری نے آخری لمحات تک لاج رکھا۔جب بھی جو پڑھا لوگوں کے دلوں کو اثر کیا کئی لوگوں کو مسلمان بھی کیا۔خوش اخلاقی آپکا ہمیشہ خاصا رہا ۔آخری کلام جو اپنی شہادت سے پہلے پڑھا وہ دعائیہ کلام تھے جن کو  پڑھ   کر نہ صرف ان پر بلکہ سننے والوں پر بھی رقت طاری ہوگئی تھی

؎    میں قبر اندھیری میں گھبراوں کا جب تنہا

امداد  میری کرنے آجانا رسول اللہ ﷺ

روشن میری تربت کو للہ ذرا کرنا

جب وقت نزع آئے دیدار عطا کرنا

اسی طرح ۷ اکتوبر ۲۰۱۶ کو اہلسنت والجماعت کے سربراہ علامہ شاہ تراب الحق قادری کراچی میں طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملے آپ نے ساری زندگی دین کی خدمت میں گزارا اور عوام الناس کو اپنے اسلاف سے روشناس کرایا بے شک آپ کے اس خلا کو کبھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح ایک اور اہم اور ہردلعزیز  شخصیت یعنی عبدالستار ایدھی صاحب بھی ۸ جولائی کی شب کروڑوں لوگوں کو غم ذدہ چھوڑ گئے ۔عبدالستار ایدھی وہ ہیں جنھوں نے بے سہاروں کو سہارا دیا۔اپنا نام دیا ہمیشہ اپنی زندگی سادگی سے گزاری ساری زندگی صرف خدمت خلق پر صرف کردی انسانیت سے محبت کرنے والے ،چھ دہائیوں تک بلاامتیاز لوگوں کی خدمت کرنے والے خود تو خدمت خلق خوب انداز میں نبھایا ہی بلکہ کئی دوسرے لوگوں کو بھی صیح معنوں میں خلوص کے ساتھ خدمت خلق کس کو کہتے ہیں ،خدمت خلق کرنے کا ڈھنگ بھی سکھایا آج ان ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کئی ادارے عوام کی فلاح و بہبود کا بیڑا  اٹھائے ہوئے ہیں اللہ ان میں بھی اور ہر انسانیت سے محبت کرنے والے کو ہمت و حوصلہ اور خلوص نیت عبدالستار ایدھی کی طرح عطا فرمائے آمین ۔

؎ درد  دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اسی طرح پاکستان کی سیاست کے مشہور سیاست دان جہانگیر بدر ۲۵ اکتوبر ۲۰۱۶  کو انتقال کرگئے ۔آپ کا نام پاکستانی سیاست میں خاصا جانا پہنچانا ہے سیکڑیری جنرل کے علاوہ دو مرتبہ وزیر کے عہدہ پر بھی اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالا ہے۔پاکستان پیپلز  پاڑی کے نہایت سرگرم کارکن تھے ۔سیاست کے حوالے سے اخبارات پر کئی تحریریں بھی لکھی سیاست میں ڈگریٹ کی ڈگری حاصل کی۔اور اب ہمیشہ کے لئے دنیا کی اس سیاسی بھنور سے آزاد ہوکر اپنے اصل سے جا ملے ہیں اللہ ان تمام محرومین کو جنت الفردوس میں جگہ دے آمین ۔

یہ تو وہ افراد تھے جن کے لئے ۲۰۱۶ کا سورج ہمیشہ کے لئے ان کی زندگیوں کو ہی غروب کرکے چلا گیا۔لیکن ۲۰۱۶ اب اتنا بھی ظالم نہیں ہے جہاں اس نے لوگوں کو رولایا ہے ۔وہیں پر کتنے لوگوں کے گھر بھی آباد  و روشن کئے ہیں کتنے افراد کے لئے یہ ہی ۲۰۱۶ خوشیوں کی نوید لے کر آیا ہے ان ہی خوش نصیب لوگوں میں ہمارے کچھ مشہور و مصروف فنکار بھی ایسے ہیں جن کی زندگی ۲۰۱۶ نے ہمسفر ملوادیئے جی ہاں ! پاکستان کی چند مقبول شوبز شخصیات کی یادگار شادیاں بھی ہیں جنکو لوگ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بہت پسند کرتے ہیں ان ہی میں ایک پاکستان شوبز کی انتہائی ٹیلنڈیٹ ،خوبصورت سحر انگیز گفتگو کی مالک ،مورننگ شو کی میزبان صنم جنگ بھی ہیں جو  ۹ جنوری ۲۰۱۶ کو رشتہ اذدواج میں منسلک ہویئں ۔

اسی طرح انعم فیاض ،جاناں ملک ،ربعیہ چودھری ،عروہ اور  فرحان سعید  بھی اسی سال ۲۰۱۶ میں اپنے خوابوں کے ہمسفر سے ہمیشہ کے لئے رشتہ اذدواج میں منسلک ہوگئے ان سب کے لئے نیک تمناوں اور سدا خوش رہنے کی دعاوں کے ساتھ  یہ دعا کرتی ہوں کہ اب ۲۰۱۷ سب کے ہی لئے ہمیشہ کے لئے خوشیوں کا سورج لیئے طلوع ہو آمین۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *