بکر۱ عید پر کیا کیا ہوتا ہے؟

بکر۱ عید پر کیا کیا ہوتا ہے؟

(By: Muhammad Feroz)

بکر۱ ۔عید پر کیا کیا ہوتا ہے؟ بقر عید کا نام سنتے ہی انسانی ذہن فورا تکہ، بوٹی، کلیجی، سری، پائے، ران اور چانپوں کی طرف چلا جا تا ہے اور لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ دراصل ہم نے سنت ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اس فریضہ کو سر انجام دینا ہے ۔ آجکل ہر شہر گاؤں اور دیہات میں قربانی کے لیے جانوروں کا فیشن شو یعنی منڈی لگی ہے اور ہر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق اس شو میں جا کر جیب ہلکی کرنے کے چکر میں ہے۔ سیانے لوگ تلاش جانوراں برائے قربانی سال پہلے ہی شروع کر دیتے ہیں، جب وہ بلی کے بچونگڑے کے برابر کا ایک آدھ بکرا، بکری کا بچہ لیکر یا تو گھر باندھ کر چھوٹے بچوں کو بہلانے کا کام بھی لیتے ہیں ، یا پھر کسی جاننے والے کی زمینوں پر کھلے ڈھلے پلنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں ، تاکہ آخر وقت کے ڈھیر سارے خرچے سے بچا جاسکے۔ لیکن اکشریت ان لوگوں کی ہے جو یہ بیچارہ مظلوم قر بانی کا جانور آخری دنوں میں ہی خرید پاتے ہیں۔ بلخصوص بڑے شہروں کے لوگ تنگی مکاں کی وجہ سے ادھر جانور لیا اور ادھر چھری دے تھلے۔ تنخواہ دار سب سے مظلوم طبقہ تو آخری دم تک ادھر ادھر سے کچھ آنے کی امید پر اس خاص شے کے لیے چاند رات ہی کر دیتا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز ایڈوانس ہو گئی ہے۔ اب آپ مویشی منڈی یا بکرا پیڑی جا ئیں ، بکرا، بکری یا جو بھی جانور لینا ہو اسکی ایشوریا یا مادھوری اسٹائل ، مختلف زاویوں سے بہت سی تصاویر بنا کر بیگم اور بچوں کو ایم ایم ایس کریں، پسند کرائیں ، چرچے کے لیے خرچہ کریں اور جانور گھر لے آیئں۔ عیدین پر سب سے زیادہ شامت بیچارے سر کاری ملازم کی ہی تو آتی ہے کہ لگی بندھی تنخواہ اوپر سے اضافی خرچہ ۔ حضرت کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بڑے جانور میں سستا سا حصہ ڈال لیا جائے، مگر بچے او ر بیگم میاں بیچارے کو ان نیک ارادوں سے باز رکھتے ہوئے بکرے کی فرمائش اور رٹ برابر ایسے جاری رکھتے ہیں جیسے امریکہ ڈو مور کی رٹ لگائے رکھتا ہے ۔ بلکہ بعض بیگمات تو اسی مریکہ کی طرح سے اپنے اپنے میاؤں کو تڑیاں بھی لگا دیتی ہیں کہ بکر ا لائیں تو گھر آنا ورنہ باہر ہی کہیں ڈیرہ لگا لینا اور انجام کے لیے تیار رہنا۔ یوں بیچار ہ ملازم نہ چاہتے ہوئے بھی ادھار شدھار کر کے بکرا گھر لے ہی آتا ہے۔

 

لو جناب!بکرا گھر آیا نہیں کہ اس کی منہ دکھائی کی رسم شروع ہو جاتی ہے۔ بچے محلے والوں کو پکڑ پکڑ بکرا دکھانے کو لارہے ہوتے ہیں، بیگم اپنے رشتہ داروں کو فون پر اور بہ نفس نفیس بکرے کی خوبیاں بیان کر رہی ہوتی ہیں، مثلا بکرا بہت ہی اعلی نسل کا ہے، دوندا ہے ، بہت ہی خوبصورت ہے، اﷲ جھوٹ نہ بلوائے تو تقریبا ایک من گوشت ضرور نکل آئے گا؟؟(بکرا نہ ہو ا گائے ہوگئی) ، مزید یہ کہ بس اس نسل کا یہ ایک ہی بکرا تھا جو ہم لے آئے، اسکے بعد اسکی نسل ہی ختم ہے وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری طرف بچے اپنی اپنی پلاننگ میں مصروف کہ گھاس کون لائے اور کھلائے گا، پانی کی ڈیوٹی کس کی ہو گی، کھل ، بھوسی ٹکڑے اور چنے کون کھلائے گا، وغیرہ غیرہ ۔مگر صفائی کی ڈیوٹی کی طرف کوئی نہیں جاتا کہ گند صاف کرنے کی ڈیوٹی ماں یا ماما کی لگا دیجاتی ہے یا پھر بیچاری چھوٹی بہن رگڑے میں آتی ہے ۔

 

تو جناب!گھر میں ہو بکرا اوربچے باہر لیکیر نہ جا یئں ا یسا تو ہو نہیں سکتا۔ اسی طرح کا ایک واقعہ للو میاں کے ساتھ گذشتہ عید سے ایک روز قبل پیش آیا، جب آخری نمبر والے بچے کو ، جسکا ھاتھ بھی ابھی بکرے کی دم تلک بھی نہیں جاتا، انہیں بکرے کو سیر کرانے کا شوق چرا یا۔ ماں کی آنکھوں میں دھول اور لال پسی مرچ جھونک، بکرا کھولا اور با ہر لے گئے۔ بکرا صاحب کو گلی میں کسی گھر سے مظلوم میڈم بکری کی آواز آ گئی، بکرا صاحب نے وہیں سے مولا جٹ کی طرح آواز لگائی کہ میں آریا واں گلابووو ، اور وہ رسی چھڑا کر چھوٹے میاں کو کوڑے کی اروڑی پر گیند کی طرح اچھالتے اپنی بکری کو لیکر ایسے لا پتہ ہوئے کہ جیسے ہمارے سیاستدان الیکشن جیتنے کے بعد ۔ شام کو للو میاں گھر آئے تو ماجرا سن کر پہلے تو اپنا سر پکڑ کر رہ گئے، پھر تلاش جانوراں میں نکل کھڑے ہوئے۔

قریبی مساجد میں اعلانات کرائے، میونسپل کمیٹی کے گمشدہ جانوروں کے بھانے میں تلاش کیا، لوگوں سے ادھر ادھر پوچھتے پاچھتے پتہ چلا کہ محلے کی ایک عدد بکر ی بھی غائب ہے اور بکری کا مالک بکری کی تلاش میں سر گرداں ہے۔ موقعہ کی مناسبت سے ایک صاحب نے تو مشورہ دیا کہ آپ بھی چیف جسٹس صاحب کہ خط لکھ دیں کہ سو موٹو ایکشن لیکر ہماری بکری اور بکرا بازیاب کرا یا جائے، کیونکہ آجکل یہی ٹر ینڈ چلا ہوا ہے کہ کسی کا طوطا یا بلی بھی گم ہوجائے تو فورا چیف جسٹس صاحب کو تار بھیج دی جاتی ہے جیسے انکے پاس سیاستدانوں کی طرح کرنے کو کوئی اور کام نہ ہو ۔ خیر جناب! کچھ تلاش بسیار کے بعد ایک جگہ بکرا اور بکری دونوں ہی مل گئے، مگر دونوں نے اپنے اپنے مالکوں کو دیکھ کر دوبارہ دوڑ لگا دی اور راستے میں آنے والی ہر چیز کو چنگیز خان کی طرح تہس نہس کر دیا۔ مثلا گول گپے والے کی ریڑھی الٹا دی ، سبزی والے کا ٹھیلا کلٹی کر دیا ،دودھ والے کی سائیکل کو ٹکر ماری بلو حجام کا بیٹا جو کہ گلی میں بنٹے کھیل رہا تھے اسکی بازو توڑ دی۔ بکرا بکری آگے اور دونوں مالک پیچھے، آخر ایک جگہ دونوں تھک ہار کر رک ہی گئے اور رحم طلب نظروں سے ایسے دیکھ رہے تھے جیسے کہ رہے ہوں کہ:

اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں ہماری رسوا۔۔۔۔۔۔َََاس شہر میں آجکل تم جیسے دیوانے ہزار ہیں

 

اور واقعی اسوقت سب لوگ انکے دیوانے تھے کہ کل ان صاحب کو قربان جو کرنا تھا۔ بالآخر درجن بھر لوگوں کی مدد سے دونوں مالکان اپنے اپنے مال کو قابو کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے اور للو میاں بکرا لیکر بڑے فاتحانہ انداز میں گھر میں داخل ہوئے کو آج تو بیگم کے آگے ٹور بن جائے گی۔ ابھی للو میاں لہک لہک کر اپنی بہادری کے قصے بیگم اور بچوں کے گوش گذار کر ہی رہے تھے کہ گول گپے والا، سبزی والا اور دودھ والا اپنا اپنا معاوضہ وصول کرنے پہنچ گئے اور ساتھ میں بلو حجام بیٹے کے بازو پر پٹی چڑھائے موجود میڈیکل الاؤنس کا تقا ضا کر ر ہا تھا ۔ان تمام حضرات کو دیکھ کر تو للو میاں کی جان ہی نکل گئی کہ اتنے کا تو بکر ا نہیں جتنا معاوضہ مذکورہ صاحبان طلب کر رہے ہیں۔ پھر رات گئے محلے کے بزرگوں کی میٹنگ کال کی گئی جسمیں فیصلہ ظاہر ہے کہ اکثریت سے للو میاں کے خلاف آیا اور پھر تما م لوگوں کا نقصان پورا کرنا پڑ۔ اور یوں یہ بکرا صاحب بچھڑے کی قیمت میں جا پڑے۔صبح صبح عیدی ویدی اور دیگر غیر ضروری اخراجات سے فراغت کے بعد ، بیگم کو چھریاں ، بگدے اور کھو ڑی وغیرہ محلے والوں سے مستعارلینے بھیجنے کے بعد ، ابھی عید کی نماز میں تھوڑا سا ٹائم باقی تھا للو میاں نے سوچا کہ قصائی کو ذرا ریمائنڈ کرا آیئں کیو نکہ محلے دار ہونے کے ناطے اسنے بہت قریب کا نمبر یعنی چوتھا نمبر دیا تھا اور پانچ سو روپیہ ڈسکاؤنٹ بھی اور وعدہ کیا تھا کہ وہ عید کی نماز کے ٹھیک سات منٹ بعد انکے گھر ہوگا اور آپ ہر چیز تیار رکھیے گا ۔ قصائی موصوف کے گھر سے پتہ چلا کہ وہ تو صبح سات بجے والی مسجد میں نماز پڑھ کر درجن بھر جانور ڈھا بھی چکے ہیں۔

خیر جناب للو میاں بھی جلدی جلدی نماز پڑھ کر گھر پہنچے کہ قصائی صاحب آ چکے ہونگے، مگر وہ لاپتہ تھے اور فون بھی بند تھا۔ اب للو میاں کبھی بکرے کو دیکھیں اور کبھی بیگم کو کیونکہ بیگم اپنے اہل خانہ کو دوپہر کے قیام و طعام کا پہلے ہی کہ چکی تھیں۔ للو میاں نے محلے کی چھ گلیوں میں چھیوں بچوں کو دوڑایا کہ جو بھی قصائی کو ڈھونڈھ کر لائے گا اسے سو روپیا انعام ، گھنٹے بعد منجھلا والا بیٹاسر پر قصائی کی کھوڑی اٹھائے فاتحانہ انداز میں داخل ہوا اور کہا کہ لائیے سو روپیا، قصائی باہر ہے۔ لو جناب! قصائی صاحب تشریف لائے بمعہ دو ہیلپرز، آتے ہی نہ سلام نہ دعا، نہ عید مبارک،آؤ دیکھا نہ تاؤ بکرا ڈھا یا چھری چلائی،بکرے نے ایک دو پلٹیاں ادھر ادھر ہمارے ایک مشہور مذہبی سیاستدان کی طرح ماریں اور ٹھنڈا ہوگیا۔ قصائی صاحب نے جلدی جلدی کھال اتارنے کا افتتاح کیااور ہیلپروں کے حوالے کر یہ جا وہ جا۔ جاتے جاتے ہیلپروں کو تاکید کر گئے کہ ٹھیک آدھے گھنٹے بعد سرور بھائی کے گھر آ جانااگلا پروگرام وہیں ہے۔ للو میاں نے قریب ہوکر دیکھا توبکرے کی آنکھیں کچھ کھلی کھلی سی نظر آئیں جیسے اپنی بکری سے کہ رہی ہوں کہ:

مرکر بھی آنکھیں رہیں گے شام و سحر یونہی کھلی میری ۔۔۔ کہ آنکھوں کو سونپ دیں گے سدا تیرا انتظار ہم

تاہم ہیلپر قصائی نے بعد میں کلیئر کر دیا کہ صاحب جی یہ تو یونہی کھلی رہتی ہیں۔ آدے گھنٹے میں دونو ں ہیلپروں نے بکرے کی بوٹی بوٹی الگ کر دی اور خرچہ پانی لیکر فرار ، اگلے معرکے کے لیے۔ اب جناب گوشت کی تقسیم کا مرحلہ۔ سب سے پہلے تو بیگم نے آواز لگائی کہ کھال اور سری پائے وغیرہ کسی مدرسے ودرسے یا کسی بھی تنظیم کو نہیں دینی ہے، یہ چیزیں میں نے فلاں بابے کو دینی ہے جسنے پہلے پہلے منے کی دفعہ میں تعویذ دیا تھا اور پائے اس والی اماں کو دینے ہیں جو میرے سر سے جویں نکالتی ہیں اور اوجھڑی فلاں بابے کو دینی ہے جسنے سب سے چھوٹے منے کی دفعہ پڑھ کر دم کیا تھا اور ہاں جس ماسی نے چھوٹے منے کا چھلا بھگتوایا تھا اسکا حصہ ضرور رکھنا، وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ کِلو کِلو کے درجن بھر شاپر لیکر وہیں بیٹھ گئیں اور اماں کے، بھائی کے، بہن کے، ابا کے گوشت کے شاپر پہلے ہی الگ الگ کرا لیے گول بوٹی والے۔ خاص طور سے ابا کے لیے ران کا گوشت بغیر ہڈی کے الگ کرا لیا کہ ابا کی بتیسی میں کہیں ہڈی نہ پھنس جائے۔ فقرا اور مساکین کا حصہ بھی یہ کہ کر الگ کرا لیا کہ میری چھوٹی بہن کا تو کوئی کمانے والا ہی نہیں تو اس سے زیادہ حقدار کون؟۔للو میاں نے یاد کرایا کہ بیگم جن اشخاص کے شاپر آپنے الگ الگ رکھوائے ہیں انہیں تو آپنے دعوت پر بھی بلایا ہے، تو کیا وہ پکا بھی کھائیں گے اور کچا بھی؟ بیگم نے گھور کر دیکھا اور کہا کہ تو بہ ہے سال میں ایک ہی بار تو ایسا ہوتا ہے، میں کونسا روز رو ز گوشت بھجواتی اور کھلاتی ہوں ۔

 

ٰیوں جناب ! بیگم صاحبہ نے اپنے گوشت کے شاپر پورے کرانے کے بعد سب سے پہلے گردے کلیجی وغیرہ بھون کر بڑے فخریہ انداز میں سب کو چکھوائے اور پھر ٹائم کی شارٹیج کو مد نظر رکھتے ہوئے آدھا گوشت، آدھے بال لگے، آدھے اترے یونہی بغیر دھلا پکنے کے لیے چڑھا دیا گیا۔ کیونکہ درجن بھر مہمان بڑی بیتابی سے قربانی کے گوشت پر ہاتھ صاف کرنے اور بتیسی والے حضرات اپنی اپنی بتیسیا ں بھی رگڑوا اور صاف کرا چکے تھے۔پھر جناب کھانا تیار ہونے پر سب نے اسکے ساتھ پورا پورا انصاف کیا اور تمام مہمان ہاضمے کے لیے آدھا درجن سپرائٹ اور ڈیو کے دو لیٹر پیک بھی ساتھ چڑھا گئے ۔ بقر عید ہو اور بچوں اور بڑوں کے پیٹ خراب نہ ہوں انہونی سی بات ہے، کئی صاحبان تو کھانے کے دوران بھی کئی بار باتھ روم کی حاضریاں لگانے گئے ، مگر کھانے سے ھاتھ انہوں نے پھر بھی نہ اٹھایا اور اسی رفتار اور ذوق اور شوق سے باتھ روم آتے جاتے اور کھانا تناول فرماتے رہے۔

 

شام کو تما م گھر والے سا لے صاحب کے ہاں انوائیٹڈ تھے، بیگم نے رقعہ بھجوایا کہ بھا ئی کے گھر جانا ہے پانچ کلو مٹھائی اسپیشل کا ٹوکرا لیتے آئیے اور ٹیکسی کار کا بھی بندوبست کر لیں ہم چنگ چی رکشہ یا W-11 کی منی بس پر نہیں جایئں گے۔ للو میاں نے کہا کہ بیگم ہم کھانا کھانے جارہے ہیں، نہ کہ بڑے منے کی سگائی کرنے، تو پا نچ کلو مٹھائی اور ٹیکسی کا کیا کام، بیگم نے بینگن کی طرح برا سا منہ بنا کر جواب دیا کہ درجن بھر بچے ہیں خیر سے میرے بھائی کے، کم از کم چار چار دانے تو حصے میں آئیں، ا یک کلو میں کیا بنے گا اور یہ کہ ٹیکسی کی اپنی ٹور ہوتی ہے۔

 

چار خواتین اگرکہیں اکٹھی بیٹھ جائیں تو پھر آپ کم از کم دو چار گھنٹے کے لیے انہیں بھول جایئں۔ یہی کچھ سا لے صاحب کے گھر ہوا کہ کھانے سے فراغت کے بعد مذکورہ خواتین کہیں کپڑوں اور نئے ڈیزائنوں کا اور ایک دوسرے کی برائی کا تذکرہ چھیڑ بیٹھیں اور آدھی رات کردی۔ بقول ایک سروے کے کہ عورت کوئی بھی راز صرف تئیس گھنٹے اور سینتالیس منٹ تک چھپا سکتی ہے اسکے بعد وہ راز راز نہیں رہتا۔ یہی کچھ شاید یہاں ہو ا کہ ایک دوسرے کے میاؤں کے پول کھلنے شروع ہو ئے اور ٹائم کا پتہ ہی نہ چلا۔ میاں نے بچوں کے ہاتھ بہت سے پیغام بھچوائے، ایس ایم ایس بھی بھیجے مگر ہر بار یہی جواب آتا کہ بس ابھی آئی۔ ادہر للو میاں کویہ فکر کھائے جارہی تھی کہ آدھے بچے سو چکے تھے جنھیں تیسری منزل سے نیچے گود میں یا کمر پر لاد کر اتارنا اور پھر اپنے گھر کی پانچویں منزل پر چڑھانا بھی تھا۔ اﷲ اﷲ کر کے بیگمات کی یہ محفل برخاست ہوئی اور سا لے صاحب سے اجازت چاہی۔ سا لے صاحب نے اوپری دل سے پو چھا ضرور کہ بچوں کو نیچے تک پہنچوا آؤں، مگر بیگم نے فورا منع کردیا کہ نہیں بھیا آپ کہاں اتنی تکلیف کریں گے یہ خود ہی اٹھا لیں گے۔ لہذا پھر خود ہی للو میاں کو یہ کارہائے نمایاں سر انجام دینا پڑا۔ رات کے تین بجے دن بھر کا تھکا ہارا ، پریشان حال، میاں بیچارہ لٹا پٹا بستر پر لیٹا تو نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور بے اختیا ر اسکے لبوں پر یہ شعر مچلنے لگا:

دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کوے انڈے کھا ئیں ۔۔۔ میاں کی جیب کرکے خالی ،مزے بیوی بچے اڑائیں

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *