اب کے ہم بچھڑے تو شائد کبھی خوابوں میں ملیں

 20 Nov 2016        سیدہ نسرین 

فیض احمد فیض دنیائے ادب کا وہ جگمگاتا ستارہ ہے جو اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی کروڑوں دلوں میں جگمگا رہا ہے۔

  !محترم قارئین 

  .فیض احمد فیض کا نام شعروادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ فیض انگریزی اردو اور پنجابی کے ساتھ  ساتھ فارسی اور عربی زباں پر بھی عبور رکھتے تھے

  میر، غالب اوراقبال کے بعد جو داد و تحسن اور مقبولیت آپ کے حصے میں آئی وہ شاید ہی کسی کے نصیب میں آئی ہو 

فیض احمد فیض ایک عظیم اور لازوال شاعر ہی نہیں تھے بلکہ ان کی نثر میں بھی کمال تھا اور ایک منفرد اور نمایاں اسلوب کی حامل تھے ۔فیض نے جب شاعری کا آغاز کیا تو اس وقت بہت سے قدآور اور جانے مانے چوٹی کے شعراء موجود تھے جن کے ہوتے ہوئے خود کو منوانا ایک مشکل کام تھا۔ جوش ملیح آبادی، جگر مراد آبادی اور فراق گور پوری کے سامنے کسی کا چراغ نہ جلتا تھا لیکن فیض کے منفرد انداز نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ان کی شعری تصنیف میں نقش فریادی، دست صبا،زنداں نامہ، دست تہ سنگ، شام شہریاراں، سروائد سینا، میرے دل میرے مسافر اور نسخہ ہائے وفا شامل ہیں۔ اسکے علاوہ فیض احمد فیض کی مشہور شاعری جو عوام الناس میں زبان زد عام ہیں ان میں مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مان،دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کردیا،کررہا تھا غم جہاں کا حساب وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔ہیں فیض احمد فیض نے ۱۹۳۰ میں لبنانی شہری ایلس سے شادی کی وہ بھی تحقیق سے وابستہ تھیں اور فیض کی شاعری اور شخصیت سے متاثر تھیں۔لیکن افسوس ! آپکی خوشگوار زندگی میں ۹ مارچ ۱۹۵۱ کی صبح ہوئی جب فیض احمد فیض کو روالپنڈی سازش کیس میں معاونت کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔انہوں نے وہاں ۴ سال سرگودھا،ساہیوال،حیدرآباد اور پھر کراچی کی جیل میں گزارے ۔پھر ۱۲ اپریل ۱۹۵۵ کو انہیں رہا کردیا گیا۔لیکن ترقی پسندی کی تندوتیز آندھی میں بھی ان کی شاعری کا معیار برقرار رہا۔ایک کامیاب اور نشیب و فراز سے بھرپور زندگی گزارنے کے بعد فیض احمد فیض ۲۰ نومبر ۱۹۸۶ کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔۔۔۔۔۔؎ آج تم ہمیں بے حساب یاد آئے!!!!!

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *