بھارتی چینلز پر پابندی

بھارتی چینلز پر پابندی

(By: Syeda Nasreen Faheem)

22, Oct 2016 | 07:56 pm

پیمر ا کی جانب سے ایک اعلان ہوا کہ ۱۶ اکتوبر سے ملک بھر میں بھارتی چینلز پر پابندی عائد کر دی جائے گی اور جو کوئی پیمرا کے خلاف جاکر بھارتی چینلز کو آن ائیر کرئے گا اُسکے خلاف سخت کاراوئی کی جائے گی۔بلکہ اب بھارتی مواد پاکستان کے نجی چینلز پر بھی چلانا خلاف قانون عمل ہوگا جس کا پیمرا کی جانب سے سخت نوٹس لیا جائےگا۔یہ ایک بہترین اقدام اُٹھایا گیا ہے پیمرا کی طرف سے۔بس شرط یہ ہے کہ یہ قدم ٖصرف عارضی نہ ہو بلکہ دائمی طور پر بھارت کے ہر پروگرامز پر پابندی ہونی چائیے نہ صرف پروگرامز پر بلکہ ہر اُن اشتہارات پر بھی جو بھارتی ہوں کیونکہ یہ بات پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کے لئے بہت نقصان دہ ہے کہ پاکستان کے ہی کچھ  برانڈ  اشتہارات کے لئے پاکستان کے فنکاروں کے بجائے بھارتی فنکاروں سے کرواتے ہیں جو کہ پاکستان میڈیا انڈسٹری کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے بلکہ اسطرح بہت سا پیسہ غیر قانونی طور پر انڈیا منتقل ہو رہا ہے جو کہ پاکستان کی مشعیت کے لئے تنزلی کا باعث ہے۔اگر ان ہی پیسوں کو پاکستانی میڈیا انڈسٹری کی ترقی کے لئے استعمال کیا جائے تو کچھ شک نہیں کہ پاکستان انٹرنیشنل سطح پر اپنے قدم کو مضبوط کرسکتا ہے کیونکہ اس میں کوئی شک کی گنجایشٔ نہیں ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے پاکستان کے فنکار اپنا لوہا منوانا خوب جانتے ہیں ۔تو کیا ضرورت ہے کہ پاکستانی فنکاری کی دُنیا میں انڈیا کو اپنا آئیڈیل بنائے بلکہ اپنے ٹیلنٹ پر بھروسہ رکھتے ہوئے مثبت انداز میں میڈیا کی ترقی کے لئے کام کیا جائے تو جلد ہی دُنیا فنکاری کے شعبے میں پاکستان کو اپنا آئیدیل تصور کرنے لگے گی جیسے کہ پہلے پاکستان کے ڈرامے نہ صرف ملک میں بلکہ غیر ملکوں میں بھی دُھوم مچائے ہوئے تھے۔قارئین آپ کو یاد ہی ہوگا جب پی ٹی وی  سے ۸ بجے کا ڈرامہ نشر ہوتا تھا تو سٹرکوں پرایک سناٹا طاری نظر آتا تھا اور گھر کے تمام افراد ٹی وی اسکرین کے گرد ہجوم لگائے بیٹھے ہوتے تھے جو کہ پاکستان کے ڈراموں کی مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔لہذا غیر ملکی اور خاص کر انڈیا کے چینلز کا مکمل بلکہ دائمی طور پر بائیکاٹ کیا جائے اور ان کو ہرگز اپنے میڈیا میں جگہ نہ دی جائے ۔

لیکن یہاں پر ایک بات بھی خاص توجہ طلب ہے کہ ہمارے فنکار خود ہی بہت بٹرے مداح ہیں بھارتی فنکاروں کے اور بہت پسند کرتے ہیں بھارت میں جاکر کام کرنے کو  پھر چاہے بھارت اُن کےلئے کچھ بھی کہے !ہمارے فنکاروں کو تو اپنے ارمان نکالنے تھے جو اُنہوں نے باری باری جاکر نکال لیئے ہیں۔لیکن اب ایسی بات بھی نہیں ہے وہاں اُن کی ستائش بھی بہت ہوئی اور اگر تھوڑی بہت لعن طین مل بھی گئی تو اتنا تو چلتا ہےنا  بھئی۔۔۔۔!

بحرحال ہمارے فنکاروں کو چاہئے کے انڈیا میں کام کرنے کے خواب کو چھوڑ کر اپنے فن میں ایسی مہارت دیکھائیں کہ خود انڈین فنکار پاکستان میں کام کرنے کے خواب دیکھنے لگے ۔مختصر یہ کہ پاکستان میں انڈین چینلز کا اور ہمارے نجی چینلز سے انڈین پروگرامز کا مکمل خاتمہ ہونا چائیے اور کسی طور  سے دوبارہ انڈین چینلز کو اور انڈین پروگرامز کو آن ائیر نہ کیا جائے یہ ہی پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کی ترقی ،ہمارے کلچر اور ہماری مشیعت کے لئے بہترین قدم ہوگا۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *