اللہ جو کرتا ہے اچھے کے لۓ کرتا ہے۔

ایک شخص صبح آفس جانے کے لۓ جلدی جلدی تیاری کر رہا ہوتا ہے۔ اسے آفس جلدی جانا ہوتا ہے 8:45 کا وقت ہے 9 بجے تک اسے آفس پہنچنا ہے وہ تیار ہو کر بغیر ناشتہ کرے آفس کے لۓ نکل رہا ہوتا ہے تواسے یاد آتا ہے کہ وہ گاڑی کی چابی اندر بھول گیا ہے وہ جلدی جلدی اندر جا کر گاڑی کی چابی ڈھنڈنے لگتا ہےاسے چابی نہیں مل رہی ہوتی وہ گھر والوں کو چابی ڈھونڈنے کا کہتا یےاس کی بیوی چابی ڈھونڈ کے لاتی ہے وہ جلدی سے گاڑی نکالتا ہےاور آفس کے لۓ نکل جاتا ہے اسی افراتفریح میں 9:05 ہو جاتے ہیں وہ تیزی سے گاڑی چلا رہا ہوتا ہے آگے ایک گڑھے میں گاڑی جاتی ہے اور اچھل جاتی ہےوہ اپنی رفتار ہلکی کرتا ہےاسے لگتا ہے کے گاڑی میں کوئ خرابی ہوگئ ہے وہ گاڑی کوکنارے پر روک کر دیکھتا ہےتو پتا چلتا ہے کے اس کی گاڑی کا ٹایر پنکچر ہو گیا ہے وہ غصے سے گاڑی کو برا بھلا کھ رہا ہوتا ہےپھر وہ دوسرا ٹایر نکال کر اسے بدلنے لگتا ہے 9:30 بج گۓ ہیں اسے فکر ہوتی ہے کہ آفس سے دیر ہوگئ ہےاسے آفس میں بہت باتے سنے کو ملےگی وہ جلدی جلدی ٹاہر بدلتا ہےپھر آفس کے لۓ نکلتا ہے 9:45 ہوگۓ ہیں وہ آفس کی طرف جارہا ہوتا ہے راستے میں آج ٹریفک بھی زیادہ مل رہا ہوتا ہےوہ  پریشان ہو کر جلدی آفس پہنچنے کی پوری کوشش کر رہا ہوتا ہے لیکن ناکام رہتا ہے 10:10 پر وہ آفس پہنچتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ آفس کی عمارت میں آگ لگی ہوئ ہے لوگ آگ میں پھسے ہیں 6 فلور میں سے 4 فلور آگ میں لپٹے ہوۓ ہیں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ جانی نقصان بھی ہوا ہے آگ بجھانے والا عملا آگ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے ساری صورت حال اس کے سامنے ہے اس نے سوچا کہ اگر وہ صحیح وقت پر آفس پہنچ جاتا تو وہ بھی اس عمارت میں پھسے لوگوں میں شامل ہوتا۔ اللہ نے میری زندگی بچانے کے لۓ مجھے دیر کروائ۔ وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور عمارت میں پھسے لوگوں کی سلامتی اور آگ کے بجھنے کی دعا کرتا ہے۔

تحقیق اور تحریر: رمشہ شیراز

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *