عید الضحیٰ

دین اسلام میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لۓ دو اہنم تہوار مقرر کۓ ہیں۔

٭ عید الفطر

٭ عید الضحیٰ

لیکن اافسوس اس بات کا ہے کہ ہم مسلمان ان تہواروں کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی اپنے بناۓ ہوۓ تہواروں کو دیتے ہیں اور اگر ہم اہمیت دیتے بھی ہیں تو صرف دکھاوا کرنے کے لیۓ۔ آج ہم عید الضحیٰ کے بارے میں بات کرئینگے۔ پہلے ہم یہ جان لیں کہ عید الضحیٰ ہم کیوں مناتے ہیں۔

ھضرت ابراہیمؑ کے دو بیٹے تھے۔ حضرت ہاجرہ سے حضرت اسماعیلؑ پیدا ہوۓ اور حضرت سارہ سے حضرت اضحاقؑ پیدا ہوۓ۔ دونوں بیویوں میں جھگڑے بڑھنے لگے تو حضرت ابراہیمؑ نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیلؑ کو  دوسری جگہ بھیج دیا۔ حضرت ابراہیمؑ کے اوپر اللہ کی طرف سے آذماءش آءی۔ حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں صبح اٹھ کر حضرت اسماعیلؑ نے اپنے والد کو پریشان دیکھا تو ان سے ان کی پریشانی کی وجہ پوچھی تو حضرت ابراہیمؑ نے اپنے خواب کے بارے میں اپنے بیٹے کو بتایا۔ حضرت اسماعیلؑ نے اپنے والد کو اللہ کے حکم کی تعمیل کرنے کا کہا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر دئں۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم کی تکمیل کی اور اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ میں آنکھیں بند کر کے قربان کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی بات اتنی پسند آءی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھا بھیج دیا اس طرح حضرت اسماعیلؑ کی جگہ ایک مینڈھے کی قربانی ہوگئ۔

اس واقعے کی یاد میں عید الضحیٰ مناءی جاتی ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اس واقعے کو بھول گۓ ہیں البتہ دکھاوے کی  قربانی کرنے میں لگے ہوۓ ہیں۔

سورہ الحج۔ آیت 37 میں ارشاد آیا ہے کہ۔

اللہ تعالیٰ کو نہ تو قربابی کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اسے تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

زرا اس ارشاد  پر غور کریں اور سوچیں کہ ہماری قربانی میں تقویٰ موجود ہے؟ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس بندے نے اتنے  پیسوں کا اور اتنا بڑا جانور لیا ہے تو ہمیں اس سے بڑا اور اس سے مہنگآ جانور لینا ہے۔ ہمیں اس بات کا ہوش نہیں ہوتا کہ ہم قربانی کرتے کیوں ہیں۔

میری آپ سب سے گزارش ہے کہ قربانی کا جو مقصد ہے اسے پورا کریں نہ کہ دکھاوے کے لیۓ قربانی کریں دکھاوے کی قربانی آپ کو اور دوسروں کو بھی مشکل میں ڈال سکتی ہے۔

حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ۔

قربانی کرنے والے کو قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملتی ہے۔

ترمزی، ج 3،ص؛126،حدیث 498

حقیق و تحریر: رمشہ شراز

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *