محرم الحرام اور یوم عاشور کی فضلیت 

محرم الحرام اور یوم عاشور کی فضلیت

(By: Syeda Nasreen Faheem)

09, Oct 2016 | 06:35 pm

!محترم قارئین

یومِ عاشورہ یعنی محرم الحرام کی دسویں تاریخ یعنی دسواں دن اسلام میں یوم عاشور کی بہت خصوصیت اور اہمیت و فضیلت بیان ہو ئی۔ محرم الحرام ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالی نے خاص حرمت والے مہینے قرار دئیے اور اس ماہ مبا رک کو سرکار دو عالم، ﷺ نے اللہ تعالیٰ کا مہینہ بتایا کیونکہ اس میں خاص کر یوم عاشور بھی ہے جو اللہ کی خصوصی رحمت و برکت کا حامل ہے۔ یوں تو ہر دن اور ہر مہینہ کی اپنی خصوصیات و اہمیت ہیں مگر خاص محرم الحرام کو اللہ کے مہینے کی طرف نسبت کر نے سے اس ماہ مبارک کی فضیلت و اہمیت کا بخوبی اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ سرکار دو عالم ﷺکا فرمان عالیشان ہے کہ ماہ رمضان کے بعد افضل ترین روزہ اللہ تعالی کے مہینے محرم الحرام کے روزے ہیں (صحیح مسلم)۔ چنانچہ یوم عاشور یعنی دس محرم الحرام کا دن اور روزے کی اسلام میں حد درجہ اہمیت و فضیلت بیان ہو ئی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں: کہ رمضان کے روزے فرض ہو نے سے پہلے لوگ عاشور کا روزہ رکھتے تھے اور عاشور کے دن بیت اللہ کا غلاف تبدیل کیا جا تا تھا جب رمضان کے روزے فرض ہو ئے تو سرکار ﷺ نے فرمایا جو چا ہے روزے رکھے اور جو چا ہے نہ رکھے ۔ صحیح بخاری ص۲۱۸ :
لہذا حضورﷺ نے عاشور کے دن کی فضیلت و اہمیت بیان کر تے ہو ئے فرمایا : اگرمومن زمین بھر سونا خرچ کر ے تو بھی عاشور کی فضیلت کو نہیں پاسکے گا۔ کیونکہ اس دن ان کیلئے جنت کے آٹھویں دروازے کو کھول دیا جا تا ہے تا کہ وہ جس دروازے سے چاہیں جنت میں داخل ہو جائیں۔
محترم قارئین! لفظ محرم، حرم سے ماخوذ ہے۔ لہذا جس کے معنی عزت و احترام کے ہیں ہم سب کو ماہِ محرم کا خوب احترام اور اس ماہ میں بہت زیادہ عبادتیں کرنی چا ہیں چنانچہ حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہیے کہ نبی کریم ﷺ نے فرما یا: اللہ کے مہینے محرم لحرام کا احترام کرو جس نے محرم الحرام کا احترام کیا اللہ تعالی جنت میں اسے بزر گی اعلیٰ مرتبہ بلند مقام عطا فرمائے گا اور اسے دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھے گا۔بعض علمائکا کہنا ہے کہ اس دن اللہ تعالی نے عرش کرسی، لوح و قلم، بہشت، آدم و حوّا، ارواح، زمین و آسمان دس چیزوں کو پیدا کیا ہے اس لئے اس دن کو عاشورہ کہا جا تا جبکہ بعض علمائے اکرام کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بزرگیاں دنوں کے اعتبار سے امتِ محمدیہ ﷺ کو عطا فرمائی ان میں یہ دسویں بزرگی والا دن ہے اس مناسبت سے اسے عا شورہ کہتے ہیں لیکن اکثر علمائے اکرام کا قول ہے کہ یہ محرم کا دسواں دن ہو تا ہے اس لئے اس کو عاشورہ کہا جا تا ہے۔ نیز مفسر شہید حکیم الامت حضرت مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ فرماتے ہیں کہ:

جو محرم کی نویں اور دسویں کو روزہ رکھے تو بہت ثواب پا ئے گا۔بال بچوں کیلئے دسویں محرم کو خوب اچھے اچھے کھانے پکائے جائیں تو انشاء اللہ سال بھر تک گھر میں برکت رہے گی۔بہتر ہے کہ کھچڑا پکا کر حضرت شہیدِ کربلا حضرت امام حسین علیہ السلام کی یاد میں فاتحہ کریں بہت مجرب یعنی مؤثرآزمودہ ہے ۔ 

جو دس محرم الحرام کو غسل کریں تو تمام سال انشاء اللہ بیماریوں سے محفوظ رہے گا کیونکہ اس دن آب زم زم تمام پانیوں میں پہنچتا ہے۔ تفسیر روح البیان، ج۴ 

چنانچہ محرم الحرام اور اس میں آنے والے یوم عاشور یہ مہینے یہ دن اطاعتِ خداوندی بجا لانے کا دن ہے علمائے اکرام فرماتے ہیں کہ عاشورہ کو عاشورہ اس لئے کہا جا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دن دس انبیاء اکرام کو دس اعزاز عطا فرمائے :
حضرت آدم کو پیدابھی کیا گیا اور ان کی توبہ بھی قبول فرمائی۔
حضرت ادریس کو بلند مکان پر اٹھا نا۔
حضرت نوح کی کشتی جود ی پہاڑ پر ٹھرائی گئی۔
حضرت ابراہیم کو پیدا فرمایا اور اسی دن ان کو نارِ نمرود سے نجات عطا ء فرمائی۔
حضرت داؤد کی توبہ قبول فرمائی۔
حضرت سلیمان کی بادشاہی ان کو لو ٹا دی گئی۔
حضرت ایوب کی بیماری دور کر دی گئی۔
حضرت موسیٰ کو دریا سے نجات دی اور فرعون کو دریا میں غرق کیا گیا۔
حضرت یو نس کو مچھلی کے پیٹ سے باہر نکا لا گیا۔ 
اسی دن حضرت عیسیٰ کو آسمان پر اٹھا یا گیا۔
اسی طرح اس دن یعنی دس محرم کو عرش و کرسی، زمین و آسمان ، چاند و سورج، ستا رے اور جنت بھی پیدا کئے گئے۔
اس دن بی بی حوّا کو بھی پیدا کیا گیا۔ 
حضرت یعقوبؑ کی بینائی بھی واپس لوٹا ئی گئی۔
حضرت یو سفؑ گہرے کنویں سے باہر نکا لے گئے 
اور اسی دن سید الشہدا حضرت امام حسین علیہ السلام کو میدان کر بلا میں بھوکا پیا سا شہید کر دیا گیا۔ 
ؔ ؔ غرور ٹوٹ گیا کوئی مرتبہ نہ ملا 
ستم کے بعد بھی کچھ حاصل جفا نہ ملا 
سرِحسین علیہ السلام ملا ہے یزید کو لیکن 
شکست یہ ہے کہ پھر بھی جھکا ہوا نہ ملا 

روایا ت میں یہ بھی آتا ہے کہ دس محرم بروز جمۃ المبارک کو قیامت قائم ہو گی اور آقائے دوجہاں ﷺ کو مقام محمود بھی عطا فرمایا جائے گا ہمیں ایسے عمل بجا لانے چاہئیں جو خوشنودی الہٰی کا باعث ہوں چناچہ عاشورہ کے دن کئے جا نے والے دس اعمال ایسے ہیں جو رب تعالیٰ کے قرب کا باعث ہیں ۔ غنیۃ اطالیبین میں ہے کہ چونکہ عاشورہ کے دن غسل کر نا بیماری سے بچاؤ کا سبب ہے۔ یعنی روزہ رکھا جائے، نفلی عبادات کا زیا دہ سے زیادہ اہتمام کیا جائے، یتیم کے سر پر ہاتھ رکھنا، توبہ استغفار کی کثرت کی جائے اور بہتر یہ بھی ہے کہ قبرستان جا یا جائے۔ سرمہ لگا یا جائے، بیمار کی عیادت کر نا بھی بہت افضل عمل ہے، پیاسے کو پانی پلانا، کثرت سے صدقہ وخیرات کرنا، اور دسترخوان کو کشادہ کر نا۔ یہ وہ اعمال ہیں جن کے باعث رحمتِ الہیٰ کا نزول ہو تا ہے۔ چناچہ محرم الحرام اور اس میں موجود یو م عاشور کا دن بہت فضیلت کا حامل ہے۔ چنا نچہ رسولﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص دسویں محرم کا روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے دس ہزار فرشتوں کی عبادت اور دس ہزار شہداء کا ثواب عطاء فرماتا ہے ۔ سیدنا انسؓ سے مروی ہے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے فرمایا جو شخص محرم الحرام کے پہلے جمعے کو روزہ رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔ لہذا سیدنا عائشہ صدیقہؓ سے مروی ہے کہ سرکا ر ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص محرم کے پہلے دس دن روزہ رکھے تو فردوسِ اعلیٰ کا مالک ہو اسی طرح عاشورہ کے روزے کا رواج اور دیگر امتوں میں بھی تھا۔ چنانچہ حضور ﷺ جب مدینہ نشریف لائے تو آپﷺ نے یہودِ مدینہ کو عاشورے کے دن روزہ رکھتے ہو ئے دیکھا تو ان سے دریا فت فرما یا ، تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا یہ ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالی نے موسیٰ اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کی قوم پر غلبہ عطا فرمایا تھا۔لہذا ہم تعظیماً اس دن کا روزہ رکھتے ہیں چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا ہم موسیؑ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں لہذا حضورﷺ نے روزہ رکھنے کا حکم دیا:صحیح بخاری۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ سے یوم عاشورہ کے روزے کا پو چھا گیا تو آپﷺ نے فرما یا یہ گزشتہ سال کے گنا ہوں کو مٹا دیتا ہے صحیح مسلم ، کتاب الصیام ، باب الستجاب ، صیام الثلاثہ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے علاوہ عاشورہ سے ایک دن پہلے اور بعد روزہ رکھنا افضل ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے مر وی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا یہودیوں کے خلاف تم نویں، دسویں اور گیا رویں محرم کا روزہ رکھو۔ امام احمد بن حنبل علیہ رحمۃ:۔ 
چنانچہ حضرت ابن عباسؓ سے مروی دوسری حدیث مبارکہ میں ہے آپﷺ نے فرمایا : اگر میں زندہ رہا تو نویں اور دسویں محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دونگا: شعب الایمان۔ 
ابو غلیط بن خلف ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے میرے گھر پر ایک چڑیا دیکھی تو یہ فرمایا کہ یہ پہلا پرندہ ہے جس نے عا شور کے دن روزہ رکھا ۔ چنانچہ حضرت قیس ابن عبادہ ؓ فرماتے ہیں کہ عاشور کے دن جنگلی جانور بھی روزہ رکھتے ہیں لہذا محرم الحرام اور اس میں مو جود یوم عا شورہ انتہائی اہمیت و فضیلت رکھتا ہے اس ماہ میں عبادت اور نیک اعمال اللہ تعالیٰ کے نز دیک قرب حاصل کر نے کا ذریعہ ہے اسلئے اس ماہ میں زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات اور عمل صالح کریں اور خاص محرم الحرام اور عاشور جو حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے منسلک ہے۔ ان کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوں اور باطل کے خلاف بہادری و ہمت کے ساتھ ڈٹ جائیں۔
یوں ہی نہیں جہاں میں چر چا حسینؑ کا 
کچھ دیکھ کہ ہوا ہے زمانہ حسینؑ کا 
سر دے کے دو جہاں کی حکومت خریدی 
مہنگا پڑا یزید کو سودا حسین علیہ السلام کا

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *