مرد مومن ، مرد حق  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم میں نہیں رہے 

(By: Syeda Nasreen Faheem)

07, Oct 2016, 10:17 pm 

مرد مومن ، مرد حق  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب ہم میں نہیں رہے 

                         میرے جنازے پہ رو نے والوں 
                         فریب میں ہو بغور دیکھو 
                        مرا نہیں ہوں غم نبی میں 
                       لباس ہستی بدل گیا ہوں 
   پیرِ طریقت ، رہبر شریعت ، عاشق رسول ، جماعت امیر اہلسنت کے سربراہ مرد مومن مرد حق علامہ شاہ تراب الحق
دامت برکاتہ عالیہ کرا چی میں رضا ئے الہی سے انتقال فرما گئے ۔۔۔۔۔۔ انا للہ و انا علیہ راجعون 
                    وہ عرش کا چراغ ہے میں اسکے قدموں کی دھول ہوں 
                    اے زندگی گواہ رہنا  ، میں عاشق رسول ﷺ ہوں 

علامہ شاہ تراب الحق قادری کی پیدائش جمعہ المبارک ٢٧ رمضان ١٣٦٣ - ١٥ ھجری ستمبر ١٩٤٤انڈیا کے شہر حیدر
آباد دکن میں پیدا ہو ئے ۔ تقسیم ہند کے بعد کے بعد ١٩٥١میں سقوط حیدرآباد کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان
تشریف لا ئے اور اسکے بعد تا وقت وصال تک کرا چی میں ہی قیام پزیر رہے ۔ آپکے والد صاحب سید شاہ حسین قادری علیہ
رحمہ کا تعلق سید گھرانے سے جبکہ آپکی والدہ محترمہ کا تعلق فاروقی گھرانے سے تھا جبکہابھی پچھلے سال ہی آپکی
اہلیہ ستمبر کے مہینے میں خالق حقیقی سے جا ملی تھیں ۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری اعلحضرت کے چھوٹے بیٹے سرکار
مفتی اعظم ہند سے مرید تھے ۔ حق بات کہنے میں آپ کبھی بھی نہیں گھبراتے تھے اور ڈٹ کر حق بات کہتے تھے اور اس
 پرعمل بھی کرتے آپ نے اپنی زندگی کا مشن امت کی خدمت اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عام کرنا
۔ بنایا جماعت اہلسنت کے سربراہ  ہو نے کے ساتھ رکن وقومی اسمبلی اور رویت ہلال کمیٹی کے رکن سمیت سرکاری اور غیر
سرکاری عہدوں پر فائزرہے ١٩٨٥میں ہو نے والے غیر جماعتی انتخابات میں علامہ شاہ تراب الحق قادری نے جماعت
اسلامی کے محمد حسین کو شکست دی اور رکن قومی اسمبلی میں منتخب ہو ئے ۔ تحریک نظام مصطفیﷺ اور تحریک ختم نبوت
میں بھی علامہ شاہ تراب الحق قادری نے اہم کر دار ادا کیا ۔ کراچی کے بہت سے مدارس میں آپ سرپرست اعلیٰ رہے ۔ اپنی
جماعت کے بھی بہت سے عہدوں پر فائز ہو کر انتھک محنت سے کام کیا ۔ اسکے علاوہ آپ نے کئی اسلامی موضوعات میں
کئی کتابیں لکھیں 
اور تصانیف تحریر کیں اورآپ نے بیانات کے ذریعے بھی لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں عشق رسول ﷺ کی شمع کو روشن
کیا ۔ اور نوجوان نسل کو ہمارے اسلاف کے بارے میں روشناس کروایا ۔ آپکی تحریر کردہ تصانیف کے نام درج ذیل ہیں : 
ضیا۶الحدیث ، جمال مصطفےٰﷺ  ، تصوف و طریقت  ، دعوت و تنظیم  ، فلاح ودارین  ، خواتین کے دینی مسائل  ،  کتاب و
صلوٰۃ  ، مسنون دعائیں  ، تفسیر سورۃ فاتحہ  ، اسلامی عقائد  ، حضورﷺ کی بچوں سے محبت   ، ثنائے سرکارﷺ  ،  امام
اعظم  ،  فضائل صحابہ و اہلبیت  ، تحریک پاکستان میں علمائے السنت کا کرادار  ، رسول خدا ﷺکی نماز  ،   حج کا مسنون
طریقہ  ، اور اسکے علاوہ بھی کئی تصانیف آپ نے اسلام کی خدمت کر تے ہو ئے لکھے ۔ لیکن افسوس !اس
عہد کا ایک مرد مومن یعنی علامہ شاہ تراب الحق قادری اب ہم میں نہ رہے لیکن آپ کی خدمات جو آپ نے اسلا م کی تعلیمات
کو پھیلانے کے لئے کیا وہ رہتی دنیا تک زندہ وجاوید رہے گا ۔ بے شک آپکی کمی و خلا کو پُر نہیں کیا جاسکتا ۔ آپ نے جو
اسلام کی اشاعت و خدمات کا پودا لگا یا انشا۶ اللہ اسے تناور درخت بنانے اور اسکی جڑ وں کو مضبوط رکھنے کا یہ مشن آپ کی
حسب منشا۶ قائم و دائم رہے گا ۔ آپ تو اس فانی دنیا سے کوچ کر گئے اور آپنے سوگوران میں ۳ بیٹے اور ۵ بیٹیوں کو
 چھوڑا ہے ۔ اللہ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے ۔ اور آپ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے (آمین)۔ 
         قبر میں سرکارﷺ آئیں تو میں قدموں میں گروں 
         گر فرشتے بھی اٹھائیں تو میں ان سے یوں کہوں 
    اب تو پائے ناز سے میں اے فرشتوں کیوں اٹھوں 
              مر کے پہنچا ہوں یہاں اس دل رُبا کے واسطے 

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *