میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہیں

میں حسین سے ہوں اور حسین مجھ سے ہیں

(By: Syeda Nasreen Faheem)

06, Oct 2016 | 02:55 pm

اے قوم! وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ

اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ

                                                  کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ

                                                         تاریخ میں رہ جاۓ گا مُردوں کا فسانہ

مِٹتے ہوۓ اسلام کا پھر نام جلی ہو

لازم ہے کہ ہر فرد حسین ابِنِ علی ہو

سیدُالشُہدہ حضرت امامِ حسین علیہ اسلام کی ولادت ۵ شبعان ۴ھ کو مدینہ منورہ میں ہوئی ۔حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام حسین اور شبیر رکھا اور آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور لقب سبطِ رسول اللہ اور آپکے برادرِ معظم کی  طرح آپکو بھی جنتی  جوانوں کا سردار اور اپنا فرزند فرمایا۔ حضورﷺ کو آپکے ساتھ اسقدر محبت اور کمالِ رافت و اُنسیت تھی کہ آپ نے جابجا حسن و حسین سے اپنی محبت کا والہانہ اظہار کیا۔ اِن کی آنکھ  مبارک میں آنے والا ایک آنسو بھی ضورﷺ کے جگرِ مبارک پر خون بن کر گرتا تھا۔ آپکو حسنین کریمین سے اس قدر الفت و محبت تھی کہ اِنکی خاطر آپ اپنے سجدوں کو طویل فرما دیا کرتے تھے۔ جن کے لئے ہر وقت بے قرار رہتے تھے ۔حضور جانانِ ِرحمت ﷺ نے حسنین کریمین کی شان و محبت میں جو الفاظ کہے اور آپکی فضیلت و اہمیت جو بیان کیں اِن کو تاریخ نے احادیث کی شکل میں محفوظ کرلیا۔ 

معزز و محترم قارئین ! آج میں نے ایک ادنا سی کوشیش کی ہے کہ اُن احادیثِ پاک کو اپنے آرٹیکل کی زینت بناؤں جو خاص کر آپﷺ نے حسین علیہ سلام یا پھر حسنین کریمین کے لیۓفرماۓ۔ چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوا  ’’جس نے اِن دونوں (حضرت امام حسنؓ و حضرت امام حسین ؓ ) سے محبت کی اس نے’ مجھ  سے محبت کی اور جس نے اِن سے عداوت کی اُس نے مجھ سے عداوت کی‘‘۔ ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے اِن دونوں فرزندوں کو اپنا پھول فرمایا ۔ ’’وہ دنیا میں میرے دو پھول ہیں‘‘۔  (الترمزی) اور’’ آپ ﷺ  اِن دونوں نونہالوں کو پھول کی طرح سونگھتے اور سینہ ِمبارک سے لپٹاتے‘‘۔ (رواہ الترمزی)۔ حضرت ایاس رضی اللہ تعالی عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اس سفید خچر کی لگام پکڑ کر چلا ہوں جس پر میرے آقا نبی کریم ﷺ اور حضرت حسن ’’ وحسین سوار تھے یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ کے حجرۂ مبارکمیں داخل ہوگئے۔ رسول ﷺ آگے سوار تھے اور حسنین کریمین آپکے پیچھے بیٹھےہوئے تھے  (صحیح مسلم)  اسی طرح ضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ جب حسن پیدا ہوئے تو میں نے اس کا نام حمزہ رکھا اور جب حسین پیدا ہوئے تو اس کا نام جعفر رکھا۔ مجھے آقا و مولا ﷺ نے بُلا کر فرمایا، مجھے انکے نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

میں نے عرض کی اللہ اور اُسکا رسول بہتر جانتے ہیں ۔تو حضور ﷺ نے اِن کے نام حسن و حسین رکھے۔مسند احمد ۔حاکم حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ حسن ؓ سے زیادہ مشابہت رکھنے والا کوئ نہیں تھا اور حضرت حسین ؓ کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ رسول ﷺ سے بہت مشابہت رکھتے تھے۔بخاری و ترمزی۔ سیدہ فاطمہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ حضرت حسنؓ و حسین ؓ کو رسول ﷺکے مرض الوصال کے دوران آپکی خدمت میں لائیں اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ انہیں اپنی وراثت میں سے کچھ عطا فرمائیں ۔آقا کریم ﷺ نے فرمایا حسن میری ہیبت اور سرداری کا وارث ہے اور حسین  میری جرأت اور سخاوت کا وارث ہے ۔طبرانی فی الکبیر ۔مجمع الزوأئد۔  حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نماز ادا فرمارہے تھے کہ اس دوران حضرت حسنؓ اور  حضرت حسینؓ آپکی کمر مبارک پر سوار ہوگۓ ۔لوگوں نے ان کو منع کیا تو آقا کریمﷺ نے فرمایا، انکو چھوڑدو، ان پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔مصنف ابن شیبہ،طبرانی فی الکبیر۔ایک اور روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ۔حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسینؓ سے ہوں۔  حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آقا و مولی ﷺ نے فرمایا ۔جو مجھ سے محبت کرتاہے اس پر لازم ہے کہ وہ اِن دونوں یعنی حسن و حسین سے بھی محبت کرے۔فضائل و الصحابہ النسائی ۔مجمع الزوئد۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ حضرت حسن سینے سے سر تک رسول ﷺ سے مشابہت رکھتے ہیں اور حضرت حسین سینہ سے نیچے پاؤں تک نبی کریم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ترمزی۔ 

  معدوم نہ تھا سایۂ شاہ ِثقلین

 اس نور کی جلوہ گاہ تھی ذات ِحسنین

 تمثیل نے اس سائے کے دو حصے کئے

 آدھے سے حسن بنے آدھے سے حسین

 حضرت ام الفضل بنتِ حارث ؓسے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئیں ۔ یا رسول اللہﷺ آج رات میں نے بُرا خواب دیکھا یے ۔فرمایا وہ کیا یے ؟ عرض کیا آپکے جسم انور کا ایک ٹکٹرا کاٹ کر میری گود میں رکھا گیا ہے ۔رسول اللہﷺ نے فرمایا تم نے اچھا خواب دیکھا ہے انشا۶اللہ فاطمہ کے ہاں بیٹے کی ولادت ہوگی جو تمھاری گود میں ہوگا ۔پس حضرت فاطمہ ؓ کے ہاں حسین ؓ پیدا ہوۓاور وہ میری گود میں تھے جیسے کہ رسولﷺ نے فرمایا تھا ۔ایک روز میں حضورﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئ تو رسول ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے میں عرض گزار ہوئ ۔یا رسول اللہﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان !کیا بات ہے؟فرمایا جبرئیل میرے پاس آۓ تھے اور مجھے بتایا کہ عنقریب میری اُمت میرے اس بیٹے کو قتل کرے گی میں نے میں نے کہا کہ اُنہیں یعنی حسین کو ؟فرمایا ہاں ! اوروہ میرے پاس اُس جگہ کی مٹی لاۓ جو سرخ ہے۔ (مشکوت،بہیقی)۔  

آنکھوں کے ساحلوں پہ ہے اشکوں کا ایک ہجوم

 شاید غمِ حسین ؓ کا موسم قریب ہے

حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ عبید اللہ بن ذیاد کے پاس حضرت حسین ؓ کا سر ِاقدس لاکر طشت میں رکھا گیا تو وہ اُسے چھیڑنے لگا اور اُس نے آپکے حُسن و جمال پر نکتہ چینی کی ۔حضرت انس ؓ فرماتے ہیں  میں نے کہا ،خدا کی قسم ! یہ رسول اللہﷺ کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے ہیں۔ بخاری۔دوسری روایت میں ہے کہ میں ابنِ زیاد کے پاس تھا جب امام حسین ؓ کا سرِ مبارک لایا گیا تو وہ ایک چھڑی اُن کی ناک میں مارنے لگا اور طنزاَ  بولا میں نے ایسا حُسن والا نہیں دیکھا تو پھر ان کا ذکر کیوں ہوتا ہے ۔میں نے کہا، تجھے معلوم ہونا چاہیۓ کہ یہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ترمزی۔ اسی طرح عبدالرحمن بن ابو نعم ؓسے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے احرام کے متعلق مسٔلہ پوچھا۔شبعہنے کہا ،میرے خیال میں مکھی مارنے کے متعلق پوچھاتھا حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا ،عراق والے مجھ سے مکھی مارنے کے متعلق مسٔلہ پوچھتے ہیں حالانکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسے کو شہید کر دیا تھا جبکہ حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ یہ دونوں دنیا میں میرے دو پھول ہیں ۔بخاری۔ اسی طرح حضرت سلمی ؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت اُم سلمہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئ اور وہ رورہی تھیں ۔میں نے عرض کی ،آپ کیوں روتی ہیں؟فرمایا، میں نے رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا کہ سرِاقدس اور داڑھی مبارک گردآلود ہے ۔میں عرض گزار ہوئ ، یا رسول اللہ ﷺ !آپ کو کیا ہوا ؟تو آپ نے فرمایا ،میں ابھی حسینؓ کی شہادت گاہ میں گیا تھا۔ترمزی۔ حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک دن دوپہر کے وقت میں نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ گیسوۓ مبارک بکھرے ہوۓ ہیں اور دستِ مبارک میں ایک شیشی ہے جس میں خون تھا ۔میں عرض گزار ہوا ،میرے ماں باپ آپ پر قربان! یہ کیا ہوا؟ فرمایا ،یہ حسینؓ اور اُسکے ساتھیوں کا خون ہے ۔میں دن بھر اسے جمع کرتا رہا ہوں۔میں نے وہ وقت یاد رکھا تو معلوم ہوا کہ امام حسینؓ اُسی وقت شہید کیۓ گیۓ تھے۔

(بہیقی مسند احمد)

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ

کاٹا حسینؓ کا سر   نعرہ تکبیر کے ساتھ

مختصرا یہ کہ اللہ تعالی  ہم سب کو آپ ﷺ اور آپکے اہلِبیت اطہار سے مخلصانہ محبت عطا کرے۔اور ہمیشہ آپکے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرماۓ کہ ہم میں بھی حق کو حق کہنے اور باطل کو باطل کہنے اور  اُسکے خلاف ڈٹ جانے کی ہمت و حوصلہ عطا۶ فرماۓ۔جیسے  کہ امام حسینؓ نے محمد بن حنیفہ اور دیگر بنی ہاشم کے نام خط لکھا جس میں فرمایا تھا کہ ۔دنیا کو سمجھو گویا تھی ہی نہیں اور آخرت کو سمجھو کہ ہمیشہ سے ہے۔

 شہسوارِ کربلا پر ہر گھڑی ہر دم سلام

 فاطمہ ذہرہؓ کے پیارے پر ہر گھڑی ہر دم سلام

دینِ حق کے واسطے سر دینِ حق کو دے دیا

اُس حسین ؓ ِباوفا پر ہر گھڑی ہر دم سلام

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *