دامادِ علیؑ کو خراج تحسین

(By: Syeda Nasreen Faheem)

05, Oct 2016, 12:35 pm 

اسلام کا درخشندہ ستارہ  ، یارِ رسولﷺ ،محبوبِ رسولﷺ ،دامادِ علیؑ ، عظیم و بہادرسپہ سالار ، متقی و پرہیزگار ، صحابہ رسسولﷺ ، فاتح مشرق و مغرب ،حاکم اُمت ، پیکر عدل و انصاف ، عاشق رسولﷺ ، مراد رسولﷺ ،وہ جن کے پاس شیطان بھی آنے سے ڈرتا تھا ، وہ جن کے فیصلوں سے امیر و غریب ،بادشاہ و غلام سب انصاف پاتے تھے۔جنھوں نے یہودیوں سے بیت المقدس فتح کیا۔جنھوں نے آدھی سے زیادہ دنیاکو فتح کرکے وہاں اسلام کا جھنڈا لہرایا جی ہاں! یہ بات کی جا رہی ہے اُن کی جن پر اسلام کو فخر ہے یعنی داماد علیؑ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جن کی یکم محرم الحرام کو نہایت عقیدت و احترام کے سساتھ یوم شہادت منایٔ جاتی ہے ۔آپکی شہادت کا افسوس ناک واقعہ ۲۶ ذی الحجہ کو پیش  آیا جب آپکا ایک بدبخت غلام ابو لولو فیروز مجوسی نے اپنی ذاتی بغض و عناد کی وجہ سے زہر آلود خنجر کے وار سے فجر کی نماز میں آپکو مسلسل تین وار کرکے زخمی کردیا

جسکے بعد آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوۓ  یکم محرم الحرام کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگۓ  ان الیہ وان الیہ راجعون ۔اس دل خراش سانحہ کے بعد اسلام اپنے عظیم منصف ، بہادر سپہ سالار ، عدل و انصاف کے پیکر سے محروم ہوگیٔ۔جن کے دور خلافت میں ایک کتا بھی بھوکا نہ سوتا۔راتوں کو اُٹھ کر اس لیۓ گشت کرتے کہ کہیں کسی کو اُنکی امداد کی ضرورت نہ ہو ۔جن  کے عدل کے نہ صرف انسان بلکہ چرند و پرند،حیوانات تک داعی تھے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے عدل کی یہ حالت تھی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا تو  آپکی سلطنت کے دور دراز علاقے کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا  اور چیخ کر بولا :لوگو ! حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہو گیا ۔لوگوں نے حیرت سے پوچھا ۔۔تم مدینہ سے ہزاروں میل دور جنگل میں ہو ، تمھیں اس  سانحہ کی اطلاع کس نے دی ۔چرواہا بولا جب تک حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ زندہ تھے میری بھیٹریں جنگل میں بے خوف پھرتی تھیں اور کویٔ درندہ انکی طرف آنکھ اُٹھا کر نہیں دیکھتا  لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا  میری بھیڑ کا بچہ اُٹھا کر لے گیا ، میں نے بھیڑیۓ کی جرت سے جان لیا کہ آج دنیا میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ موجود نہیں ہیں۔

 پھر سے کوئی عمر دے اعادہ کی جو خبر لے
ہر  ایک   نے   پکارا   تیرا  ہی   آسرا   ہے

اسی طرح آپکی ہمت و بہادری کے مسلماں کیا کافر بھی قائل تھے کہ بڑے سے بڑے بہادر کافر آپکے مدمقابل آنے سے ڈرتے تھے آپکے خوف سے تھر تھر کانپنے لگتے تھے اور آپکے سامنے ڈھیر ہونے کے سوا اُن کے پاس کویٔ چارہ  ہی نہیں ہوتا جیسے کہ ہجرت کے موقع پر کفارمکہ کے شر سے بچنے کے لیۓ سب نے خاموشی سے ہجرت کی مگر آپکی غیرت ایمانی نے چھپ کر ہجرت کرنا گوارہ نہیں کیا۔ آپ نے تلوار ہاتھ میں لی کعبہ کا طواف کیا اور کفار کے مجمع کو مخاطب کرکے کہا۔تم میں سے اگر کوئی  شخص یہ چاھتا ہو کہ اُسکی بیوی بیوہ ہو جاۓ اسکے بچے یتیم ہو جائیں تو وہ مکہ سے باہر آکر میرا راستہ روک کر دیکھ لے۔مگر کسی کافر کی ہمت نہ پڑی کہ آپکا راستہ روک سکتا ۔اسی طرح آپ ہر وقت جانان رحمت دو عالم ﷺ پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیۓ تیار رہتے اور آپکی شان میں ذرا بھر بھی گستاخی برداشت نہ کرتے کسی کو بھی  نبی کا  گستاخ پاتے تو فورا اُسکی گردن اُڑا کر اس نجاست سے اسلام کو پاک کر دیتے ۔

نبی کا فیصلہ  نہ  مان  کر وہ  جان  سے  گیا

مزاج عمر کا ہے کیسا حضورﷺ جانتے ہیں

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ایک  حاکم بھی رہے لیکن کبھی بھی اپنی رعایا کو تکلیف نہیں پہنچائی   یہاں تک کہ  اپنے ؔآپ کو رعایا کا خادم کہلواتے اور ہر وقت اُنکی خدمت میں سرگرم رہتے ، ہر کسی کو اُس کا حق برابر  دیتے یہاں تک کہ اپنے حقوق بھی رعایا کے لیۓ چھوڑ  دیتے لیکن کبھی بھی اپنے فرائض سے غفلت نہ برتتے  وہ ایک حاکم تھے وہ ایک مرتبہ مسجد میں منبر رسول ﷺ پر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہوگیا اور کہا اے عمر !ہم تیرا خطبہ اُس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ زیادہ  ہے جبکہ بیت المال سے جو کپڑا ملا تھا وہ اس سے بہت کم تھا ۔تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبداللہ بن عمر  موجود ہے ، عبداللہ بن عمر کھڑے ہوگۓ ۔

عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ تیرا باپ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہے؟ ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑہوں گا  حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بیت کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا ۔اور ان کے پاس جا پہننے کے لباس تھے وہ بہت خستہ حال ہوچکا تھا اس لیۓ میں نے  اپنا کپڑا اپنے والد کو  دے دیا۔یہ تھے وہ عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جن کا عدل و انصاف ، جن کی حکمرانی ، جن کی محبت رسولﷺ کی نظیر نہیں ملتی۔ میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے مراتب کے بارے  میں کیا قلم بند کروں کہ قلم  اور مجھ میں اتنی سقط ہی نہیں کہ آپ کے فضائل و  مراتب کو لکھ  سکیں چنانچہ آپ کے بارے میں فرمان رسولﷺ ہے کہ:اگر کوئی میرے بعد نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے:

آپ کی  اہمیت اور  قدرومنزلت کے پیش نظر رہتی دنیا تک زمین و آسمان کی تمام خلقت ہمیشہ آپکو سلام اور خراج تحسین پیش کرتی رہے گی۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *