میرے پسندیدہ چند اقوال

میرے پسندیدہ چند اقوال

(By: Syeda Nasreen Faheem)

زندگی ایک مشکل فلسفہ ہے اور اگر کوئی انسان صحیح معنوں میں اس فلسفے کو جان لے اور اپنی زندگی کو اسکے مطابق ڈھالے جیسا کہ ہمارے أسلاف نے ہمیں  زندگی گزارنے کے رہنما اصول دیئے ہیں تو پھر شاید نہیں بلکہ یقیناً ہر طرف امن وسکون کا ہی راج ہوگا ہر طرف خوشحالی ہی نظر آۓ گی اور یہ دنیا جنت نظیر کی مانند ہوجاۓ گی جو کہ بہت مشکل امر ہے کیونکہ انسان کے خمیر میں خیر اور شر دونوں کی آمیزش ہے یہئ وجہ ہے کہ اتنے رہنما اصول ،اتنی قمیتی  باتیں پاس موجود ہونے کے بعد بھی لوگوں میں بے سکونی ،بے اعتمادی اور ان جیسے بے شمار منفی اثرات پاۓجاتے ہیں ۔لیکن ہم یہ جانتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے اسی لیۓ زیادہ نہیں تو کم ہی سہی مگر  نیکی پھیلانے کے لیۓ مثبت کوشیش ضرور کرنا چاہیۓ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ: اے ایمان والو! تم بہترین امُت ہو تم بھلائ کا حکم دیتے ہو اور برائ سے روکتے ہو ۔(آل عمران۱۱۰)

اسی قرآنی آیت کے پیش نظر میں نے بھی ہمارے اسلاف کے وہ اقوال جو کہ میرے پسندیدہ ہیں آپکی رہنمائ کے لیۓ اکھٹا کیۓ ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں۔

حضرت علی کرم اللہ وجہٓ الکریم فرماتے ہیں کہ :مشکل ترین کام بہترین لوگوں کے حصے میں آتا ہے کیونکہ وہ اسے حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔

ٗ دولت اور طاقت ملنے پر لوگ بدلتے نہیں بلکہ بے نقاب ہو جاتے ہیں ۔

ٗجہاں آپکی عزت  نہ ہو وہاں مت جاؤ چاہے وہاں کھانا آپکو سونے کی پلیٹ اور چاندی کے چمچ میں ہی کیوں نہ دیا جاۓ ۔۔۔۔۔۔۔۔!

ٗ وقت ، دولت اور رشتے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مفت ملتی ہیں،مگر انکی قیمت کا تب پتہ چلتا یے جب یہ کہیں کھو جاتی ہیں۔

ٗصبر ایک ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی نہ کسی کے قدموں میں نہ کسی کی نظروں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٗ جب تم کو ذکر اللہ سُننا اچھا لگے تو جان لو کہ تمھیں اللہ سے اور اللہ کو تم سے محبت ہوگیٔ ہے۔۔۔۔۔۔۔

ٗکسی پر بھروسہ کرنا ہے تو مکمل بھروسہ کرو یا تو تمھیں ایک اچھا دوست ملے گا نہیں تو ایک سبق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٗحق بات کی پہلی نشانی ہے اسکی ہمیشہ مخالفت ہوتی ہے جسکی کوئ مخالفت نہیں وہ قطعا حق نہیں۔

ٗجو شخص تمھاری نظروں سے تمھاری ضرورت کو سمجھ نہیں سکتا اس سے کچھ مانگ کر خود کو شرمندہ نہ کرو۔

ٗ حاسد کے لیۓ بس یہی سزا کافی یے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ غمگین ہو جاتا ہے۔

ٗحضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خود کو ایسا ہی ظاہر کرو جیسے تم ہو یا ویسے بن جاؤ جیسا خود کو ظاہر کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔

ٗ حضرت فاطمہ الزہرہ علیہ اسلام کیا خوب فرماتیں ہیں کہ : تکبر کی گندگی کو دل سے دور کرنے کا بہترین وسیلہ نماز ہے۔

ٗحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہُ کا قول ہے کہ : کم بولنا  حکمت ، کم کھانا صحت اور کم سونا عبادت ہے۔

ٗ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ : جو غلطی کر نہیں سکتا وہ فرشتہ ہے ،

جو غلطی کرکے ڈٹ جاۓ وہ شیطان ہے ،

اور جو غلطی کرکے فورا توبہ کرلے وہ انسان ہے۔

ٗحضرت ادریس علیہ سلام  نے فرمایا کہ:  وہ کبھی بھی مطمٔین اور قانع نہیں ہو سکتا جو حاجات زندگی کے علاوہ بھی اور دوسری چیزوں کی حرص رکھے۔

حضرت اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ :ضرورتیں کم کرو گے تو راحت پاؤ گے ۔ اور جو کچھ تمھارے پاس ہے اس پر مطمٔن رہ

کر شریف رہو ، ورنہ ذلیل ہوگے۔

اسی طرح سے حضرت امام حسین علیہ سلام کا فرمان ہے کہ: خدا کی جنت دنیا میں کبھی دیکھنے کا شوق ہو!تو فقط ایک بار اپنی ماں کی گود میں سو کر دیکھنا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ :تین چیزوں کو پاک رکھو جسم ،لباس،خیال۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے کہ:بد نصیب ہے وہ     شخص جو والدین کی خدمت کرکے ان کی دُعا نہیں لیتا اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ میرے لیۓ دُعا کرنا۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا عبرت ناک قول ہے کہ:شکستہ قبروں پر غور کر کہ کیسے کیسے حسینوں کی مٹی خراب ہو رہی ہے۔

اگر ہم دنیاوئ لوگوں کے اعتبار سے بات کریں تو افلاطون کہتا ہے کہ: جب تو کسی کی طبعیت کا اندازہ لگانا چاہے تو بعض اُمور میں اس سے مشورہ طلب کر تاکہ اسکے جوروعدل اور خیر و شر سے تھوڑے سے اشارے مل سکیں۔

مزید کہتا ہے کہ:بہت سے نقصانات آدمی کو اس وجہ سے پہچنتے ہیں کہ وہ لوگوں سے مشورہ نہیں لیتا۔

علامہ اقبال زندگی کے حوالہ سے کیا گہری بات کرتے ہیں کہ:مصیبت ایک عطیہ خدا وندی ہے ، تاکہ انسان پوری زندگی کا مشاہدہ کرلیں۔

اسکے علاوہ کسی نے یہ بھی کیا خوب اورسچ  کہا ہے کہ:وقت کا پتا نہیں چلتا اپنوں کے سساتھ

                               لیکن                                                اپنوں کا پتہ چل جاتا ہے وقت کے ساتھ ۔

اسکے علاوہ محبت اور دوستی یہ دو چیزیں ہر طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہیں مگر ایک چیز ان دونوں کے ٹکرے ٹکرے کر سکتی ہے اور وہ ہے غلط فہمی ۔

حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ:تنہائ میں نصیحت کرنے سے اصلاح جبکہ سر عام نصیحت کرنے سے رسوائ ہوتی ہے ۔

حضرت خواجہ غریب نواز رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ:

گناہ کرنے سے ہمیں اتنا نقصان نہیں پہنچتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جتنا کسی مسلمان بھائ کو ذلیل و خوار کرنے سے پہنچتا ہے ۔

حضرت شیخ سعدئ رحمتہ اللہ علیہ بھی کیا خوب فرماتے ہیں کہ :

تو نیک ہو اور لوگ تُجھے بُرا کہیں ،یہ اس سے اچھا ہے کہ تو بُرا ہو اور لوگ تُجھے نیک کہیں ۔

مزید فرماتے ہیں کہ:؎

آدمی کے علم کا اندازہ تو ایک دن ہوجاتا ہے ، لیکن نفس کی خباثت کا پتا برسوں میں بھی نہیں چلتا۔

اُمید ہے کہ آپکو میرے یہ پسندیدہ اقوال پسند آۓ ہوں گے  ۔ آپکی دُعاوُں کی طلبگار شکریہ ۔ فی امان اللہ

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *