ماں جیسی عظیم  ہستی بار بار نہیں ملتی

  13th May 2017

! محترم قارئین

گلاب جیسی خوشبو، چودھویں کے چاند جیسی چاندنی، فریشتوں جیسی معصومیت، سچائی کا پیکر، لازوال محبت، شفقت، تڑپ، قربانی، جب یہ تمام لفظ یکجا ہو جائے تو بن جاتا ہے تِین حرفوں کا لفظ ماں،  ماں کے قدموں تلے جنت ہے،  ماں کو مسکرا کر دیکھنے سے مقبول حج کا ثواب ملتا ہے،  ماں کی زندگی تاریک راہوں میں روشنی کا مینار ہے،  ماں اور پھولوں میں کوئی فرق نہیں،  ماں قدرت کا عطا کردہ بہترین تحفہ ہے، ایک انمول خزانہ ہے، نرم لطیف ہوا کا جُھونکا ہے، بیٹی کے سَر کی چادر ہے،  بلِکتے بچے کی لوری ہے،  چاندنی کی ٹھنڈک ہے، مصیبتوں میں ڈھال ہے،  گھر کی ملکہ کا نام ہے،  جنت کی رونق ہے،  آسمانی تحفہ ہے،  کاینات کی خوبصورتی کا راز ہے ایک دعا ہے،  ماں کی اصل خوبصورتی اس کی محبت ہے اور میری ماں دُنیا کی خوبصورت ترین ماں ہے .  ماں ایک بہت بڑی عظیم ہستی ہے  اور ماں سمندر کی گہرائی سے بھی زیادہ گہری ہے،  جس میں اولادکے لیے محبت،  تحفظ اور احساس کے جذبے  ٹھانٹے مرتے ہیں .  ماں کہنے کو تو کتنا چھوٹا سا لفظ ہے، مگر اس لفظ میں کتنی گہرائی ہے ہر کوئی اِس گہرائی کو نہیں جان سکتا اور نہ ہی اِس تک کسی کی رسائی ممکن ہے.  دُنیا کی محبت دیکھ کر ماں کی محبت سے انکار نہ کریں،  کیوں کہ جتنی وہ اولاد سے پیار کرتی ہے  دُنیا کی محبت اس کے آگے ہیچ ہے.  جس طرح اللہ تعالی کی نعمتوں کا شمار کرنا  نا ممکن ہے،  اسی طرح ماں کی ممتا کا اندازہ لگانا مشکل ہے،  اِس لیے ہمارے لیے اِس سے بڑی کوئی نعمت نہیں  یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہمارے لیے ایک عظیم اور انمول تحفہ ہے،  اِس لیے اِس کی قدر کرو،  تا کہ تم کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے کیوں کہ ماں جیسی عظیم  ہستی بار بار نہیں ملتی،  اِس لیے اِس سے محبت کرو،  تا کہ تمہیں بھی محبت ملے،  اِس کو تحفظ دو  تاکہ تمہیں بھی تحفظ کا احساس ہو.  ماں کے بارے میں جتنا بھی لکھوں کم ہے   اللہ تعالی آپ کو اور ہم سب کو ماں باپ کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔۔۔ آمین
 

محبت ماں کی


کامیابی تو قدم چومے گی ہر منزل پر 
ہاں سفر کرنے سے پہلے لو اجازت ماں کی 


اتنا آسان نہیں ہوتا سمجھنا ماں کو 
ہوگی اولاد تو سمجھیںگے حقیقت ماں کی 


جب بھی دِل تڑپے گا اولاد کی ہر خواہش پر 
تب نظر آئےگی لوگوں کوسخاوت ماں کی 


ماں کے قدموں میں سجادی ہے خدا نے جنت 
غیر ممکن ہے لگائے کوئی قیمت ماں کی 


اُس وقت تلک نہیں مل سکتی خدا کی جنت 
جب تلک پائےنہ دُنیا میں وہ جنت ماں کی 


کیوں نہ ملتی تجھے شہرت شایان ؟ 
تیری آنکھوں میں جھلکتی ہے محبت ماں کی

جو بھی سینے میں بسا لیتا ہے الفت ماں کی 

بس وہی کرتا ہے ہر حال میں خدمت ماں کی 

 

اس سے بڑھ کر میں کروں اور کیا مدحت ماں کی 

سچ ہے قرآن بھی کرتا ہے تلاوت ماں کی 

 

کیسے بتلاوں میں لوگوں کو فضیلت ماں کی 

اک مومن کی ہے پہچان زیارت ماں کی 

 

،پیار ہے، عشق ہے، الفت ہے، محبت سب ہے 

ممتا سب سے الگ ہے یہ محبت ماں کی 

 

دور ہو جاتی ہے آنکھوں سے میری ہر مشکل 

سامنے آنکھوں کے جب آتی ہے صورت ماں کی 

 

ماں کی تاویز کو آنکھوں سے ملا کر رولو 

کام آ جائےگی مشکل میں ضمانت ماں کی 

 

 

 

 

اب میرے لیے روز دعا کون کرے گا 
یہ فرض ادا ماں کے سوا کون کرے گا 

چپکے سے مجھے چھوڑ کہ چل دی یہ نا سوچا 
اب مجھ پہ دِل و جان فِدا کون کرے گا 

دُنیا میں وفادارکیا کوئی ماں کے سوا ہے؟ 
یوں ماں کی طرح مجھ سے وفا کون کرے گا 

بابو اور میرا لال کہا کرتی تھی ماں تو 
قائم تیری ممتا کی فِضا کون کرے گا 

کرنے کو مجھے کہتی تھی ماں صبر ہمیشہ 
اب صبر کی تلقین سدا کون کرے گا 

ہر لمحہ رُلاتی ہے تیری یاد ماں مجھے 
آنسوں کو میرے خشک بھلا کون کرے گا

جنت ہے جس کے پاؤں میں ، وہ ہے عظیم ماں 
ٹھنڈک ہے جس کی چھاؤں میں ، وہ ہے عظیم ماں 

 

جس کے بغیر زندگی ہم سب کی ہے ادھوری 
جس کا بَدَل نہ کوئی ، وہ ہے عظیم ماں 

 

نو ماہ کی سختیوں میں جس نے ہمیں ہے پالا 
اُس کا بڑا ہے احسان ، وہ ہے عظیم ماں 

 

دِل توڑنا نا ماں کا قرآن میں لکھا ہے 
قرآن بھی جس کو مانے ، وہ ہے عظیم ماں 

 

ؔلے لو دعائیں ماں کی کام آئینگی و راہی 
جس کی دعا ہو پوری ، وہ ہے عظیم ماں

 

 

ماں سےمحبت کا اظہارکسی ایک دن کو مختص کرلینے سے نہیں کیا جا سکتا۔  سال میں ایک دن مخصوص کرنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں بلکہ اسلام میں تو ہر دن ہر لمحہ ماں کی عظمت اور محبت کا اظہار کرنا خوش قسمت لوگوں کی مہچاں ہے۔ وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں مگر افسوس مادہ پرست معاشرے نے خاندانی نظام کو بری طرح متاثر کردیا ہے جس سے والدین کی عزت صرف رسمی عمل بن کر رہ گئی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں ماں کے قدموں تلے جنت اور باپ کی رضا میں رب کی رضا ہوا کرتی تھی وہی معاشرہ آج اس جنت اور اُس رضائے الہی سے دامن چھڑاتا پایا جاتا ہے۔ ماں باپ سے بد اخلاقی یا بدکلامی کرنے کو اللہ تعالی نے سخت نا پسند فرمایا ہے یہاں تک کہ صرف لفظ اُف کو بھی ادا کرنا اللہ کے نذدیک یہ عمل ماں باپ کی شان کے خلاف دیا ہے کیونکہ اس لفظ اُف میں مزاج کے خراب ہونے کی بومحسوس ہوتی ہے۔

 

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *