مریض کی تیمارداری میں شفا کا کردار

حقیق و تحریر :  رمشا شیراز ۱۵ فروری ۲۰۱۷      

! محترم قارئین

یہ امریکہ ہے اور یہاں ایک ریاست ہے جسکا نام ‘‘ٹیکساس’’ ہے سابق صدر بُش کا تعلق بھی یہیں سے ہے اس ریا ست کے حکومتی صدر مقام کا نام ‘‘ڈونلڈ ٹرم’’ ہے یہاں ٹیکساس یو نیورسٹی میں ایک طبعہ شعبہ ہے یہاں ایک طا لبہ جس کا نام ‘‘زکویا’’ہے انھوں نے پی ایچ ڈی اس ریسرچ پے کی ہے کہ جن مریضوں کے ساتھ سماجی حمایت نسبتاّ زیادہ ہو تی ہے یا تیمارداری ہو تی ہے یا عیا دت اور بیمار پر سی ہو تی ہے یا پھر حوصلہ مند باتیں اور رب العالمین کے حضور دعائیں کی جاتی ہیں وہ مریض جلدی صحت یاب ہو تے ہیں ریسرچ سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ جن مریضوں کے حصے میں عیادت اور دعاؤں جیسی نعمتیں نہیں آ تیں وہ شفا یا بی میں زیادہ طویل عرصہ لیتے ہیں زکر کردہ ریسرچ کے سامنےآنے پر ہم نے اللہ کے  پیغمبر حضرت محمد ﷺ کی سیرت کی روشنی میں دعاؤں اور عیادت کو دیکھا تو صورتحال اس طرح سامنےآئی کہ دعا اور عیادت کسی بھی بیما ری کے لئے ایک تیر مانند ہیں۔

یتر اگر سیدھا اپنے نشانے پر لگے تو اُسے ‘‘ تیر بہدف’’ کہتے ہیں یعنی اپنے ہدف یا نشانے پر تیر لگے گا لیکن یاد رہے ! اللہ رب العزت پر جس قدر ایمان اور توکل مضبوط ہو گا اسی قدر دعائیہ نسخے کا نشانہ درست ہو گا اس لئے کہ تیر نشانے پر لگا نے والا اللہ ہے ۔

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ کے پیغمبر ﷺنے فرمایا
جس شخص کی مو ت کا وقت ابھی نہیں آیا اس بیمار کی جو شخص عیادت کرے اور یہ دعا سات بار پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس بیما ر کو اس مرض سے تندرستی دے دیں گے

تر جمہ

میں عظمت والا اللہ اور عالیشان عرش کے رب ست درخواست کرتا ہوں کہ وہ مولا کریم آپ کو شفا عطا فرما دے (ابو داؤد3106 ، ترمذی 2083)

آپ اپنے مریض کے لئے جو تحا ئف لے کر جانا چاہ رہے ہیں وہ بھی دیجئے اور حضور ﷺ کی بتا ئی ہو ئی دعاؤں کے تحائف بھی اپنے مریض کو ضرور دیجئے اور اصل تحفہ یہی ہے جو حضور ﷺ کا بتا یا ہوا اور دیا ہوا ہے ۔

تیمارداری کر نے والو! خوش ہو جاؤ جب آپ مریض کی طرف جاتے ہیں اور پھر اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کر تے ہیں اسے دعائیں دیتے ہیں اور اسکا حوصلہ بڑھا تے ہیں تو ایسے  تیماردار کے لئے حضرت ابو ہریرہ ؓ مروی ہے کہ رسول ﷺ نے فرما یا

کہ جوکسی بیمار کی تیمارداری کر تا ہے اس کےلئے آسمان سے آواز دینے والا (ایک فرشتہ) آواز دے کر تیمار دار کو مخاطب کر کے کہتا ہے تم نفیس آدمی ہو ، تمھا را  چل کر (مریض کے پاس ) آنا بھی بہت عمدہ (عمل) ہے اے تیمارداری کر نے والے ! تمھیں کیا بتلاؤں تم نے تو جنت میں محل حاصل کر لیا ہے (ابن ماجہ1443)

اللہ رب العالمین کی شان کتنی  نرالی ہے کہ صرف اور صرف بیمار کی تیمارداری کر نے سے ہی کتنا اجروثواب لکھ دیا ہے جنت میں ایک محل کی خوشخبری سُنادی ہے سبحان اللہ! اور زمین پر جو فرشتے ہیں اُن کا منظر حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن ؓ بیمار ہو گئے تو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ عیادت کے لئے تشریف لائے اس موقع پر حضرت علی ؓ نے اللہ رسول ﷺ کا فرمان سنا تے ہو ئے کہا کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرما تے ہوا سنا ہے کہ ! جب کو ئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے چلتا ہو تو وہ مریض کے پاس بیٹھنے تک جنت کے باغ میں چلتا رہتا ہے جب بیٹھ جا تا ہے تو غمرتہُ الرحمۃ اسے اللہ کی رحمت اپنے سائے میں لے لیتی ہے اگر وہ صبح کو عیادت کے لئے نکلتا ہے تو70ہزار فرشتے اس کے لئے شام تک مغفرت و رحمت کی دعا کر تے رہتے ہیں اور اگر شام کو عیادت کے لئے نکلے تو صبح تک70ہزار فرشتے مغفرت و رحمت کی دعا کر تے ہیں (مسند احمد 612 ، ابوداؤد3099)

حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا

جو بھی شخص بیمار کی بیمار پرسی کے لئے جاتا ہے تو جوں جوں آگے بڑھتا ہے اللہ کی رحمت میں آگے بڑھتا چلا جا تا ہے اور پھر جب بیمار کے پاس بیٹھ جا تا ہے تو پھر اللہ کی رحمت میں غو طے لگا نا شروع کر دیتا ہے(مسنداحمد 14310)

اللہ رب العالمین کی رحمت کے اتنے رنگ ہیں  کہ شمار ہی نہیں کئے جا سکتے جو بھی مریض کے پاس بیٹھتا ہے مر نے کے بعد وہ اللہ کی رحمتوں کے نظارے کریگا اور وہ نظارے نہ اس سے پہلے کسی آنکھ نے دیکھے ہیں نہ کسی  کان نے سُنے ہیں ، نہ ہی کسی زبان نے بیان کئے ہیں

بس دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو مریض عیادت کی تو فیق عطا فرما ئے کو ئی قریبی اور دینی اعتبار سے نیک شخصیت ہو تو بار بار جا نے کی تو فیق دے جیسا کہ حضرت معاذ ؓ اُن کی عیادت کو بار بار تشریف لے جا تے تھے (بخاری463 ، ابو داؤد3101)

تیمار داری جسے بیمار پر سی اور عیادت کہا جاتا ہے اس کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺحکم دیتے ہیں !

 

ترجمہ     بیمار کی عیادت کرتے رہا کرو

بیمار کی عیادت کا حکم کیوں ہے اس کا سبب بھی حضور ﷺ نے بتا یا کہ

تزکر کم الاٰخرۃ    (عیادت کر نا) تم لو گوں کو آخرت یا دکرائیگا    (الادب ا،فرد للبخاری518)

اللہ کے رسول ﷺ  ارشاد فر ماتے ہیں کہ

‘‘پانچ اعمال ایسے ہیں کہ جس شخص نے ان پانچ اعمال کو ایک دن میں کر لیا ، اللہ نے ایسے شخص کو جنت والوں میں لکھ دیا ’’

اُ ن پانچ اعمال میں

۱۔  پہلا عمل  

بیمار کی عیادت ہے

۲۔دوسرا عمل

جنا زے میں حاضر ہونا

۳۔   تیسرا عمل

اس دن کا روزہ رکھنا

۴۔ چوتھا عمل

جمعہ کی ادائیگی کے لئے جا نا

۵۔ پانچواں عمل

غلام کی آزادی ہے    

(سلسلۃ الصحیحۃ  1023)

ایک دن میں ذکر کردہ پانچوں اعمال کر نے کا خوبصورت اتفاق ہو جائے تو ایسے شخص کا نام جنتیوں میں اللہ تعالیٰ لکھ دیگا یاد رہے !  یاد رہے ان اعمال میں پہلا عمل بیمار کی عیادت ہے

اللہ رب العالمین ہم سب کو تو فیق دیں کہ ہم بیمار لو گوں کی تیمارداری کریں اور اپنے لیے بے شمار نیکیوں کو اکھٹا کر کے اپنے نامہ اعمال میں لکھوالیں شاید یہی عمل ہما ری نجات کا باعث بن  سکے  ۔   انشاء اللہ عزوجل

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *