رازِ فلاح صرف اتباعِ محمدی ﷺ

تحقیق و تحریر :  رمشا شیراز ۱۱ فروری ۲۰۱۷      

! محترم قارئین

دنیا اور آخرت کی کامرانی و کا میابی ہمیں کیسے حاصل ہو گی۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح ہم سب کے پیارے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ نےحاصل کیں

ہم سب کو بھی وہی راستہ اور وہی سنتِ نبوی ﷺ کے سنہری اصول کا پابند ہوکر جنت الفردوس کا اعلی مقام حاصل کر نا ہے اور جوا نشاء اللہ ضرور ملے گا ۔

زندگی کی الجھنیں اور سختیاں انسان کو بہت سے جانے اور انجانے حالات کے تھپیڑوں سے گزارتے ہو ئے ایک انمول ہیرا بنا دیتی ہیں ۔

میری زندگی کے کچھ تجر بات ایسے ہیں کہ جو مجھے غرور و تکبر میں مبتلا نہیں ہو نے دیتے میں نے اپنی حیات میں بے انتہا نامور انسان دیکھے ہیں چاہے وہ کتنے ہی زیادہ معروف کیوں نہ ہوں ان کے اندر میں نے اس قدر عاجزی و انکساری دیکھی ہے کہ وا قعی آدمی کو انسانیت کا احساس ہو نے لگتا ہے اور دل چاہتا ہے کہ ان کی مجلس میں بیٹھ کر ان کی زندگی کے تجر بات سے اپنی زندگی کے لئے سبق حاصل کیا جا ئے یہ ہی نہیں جب میں نے تا ریخ اسلامی کے اوراق کو پلٹا تو دیکھا کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ اکرام ؓ کی سیرتوں اور اُمت  کے نمایاں شخصیات کی سر گزشتوں میں لطا فت کے ایسے موتی بکھرے ہوئے ہیں کہ  ان کے ہوتے ہوئے ہمیں غیروں کے اُن بے روشن چراغوں کی کوئی ضرورت  نہیں کیونکہ میں نے جس چراغ میں جلنے  والے شعلے کی اصلیت کو پرکھنے کی کوشش کی اسی کے اندر مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ چراغ تو ہم نے خود ہی روشن کیا تھا اور پھر میں نے جانچا اور سمجھا کہ جب تک ہما رے پاس مال و دولت کی فراوانی ہوتی ہے زندگی  کے ہر شعبہ میں ترقی کی منزلیں طے کر تے ہو ئے ہر سُو روشن امکا نات کا ایک منظر نظر آرہا ہو ، ہر تمنا پو ری ہو رہی ہو، ہر کام اپنی منشا اور مرضی اور چاہت کے عین مطابق ہو رہا ہوتو ہم اسی کو کامیاب زندگی مان لیتے ہے اور اس وقت اپنے اُس مسلمان بھائی کی کوئی فکر نہیں ہوتی جو ان تمام نعمتوں سے محروم رہتا ہے یا  وہ اپنے رب کی کسی آزمائش کا امتحان سے گزر رہا ہو تا ہے  مگر وہ اپنے رب کی ان عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر گزار ہو نے کے بجائے تکبرو غرور سے کام لیتا ہے اور گمان کرنے لگتا ہے کہ ساری دنیا اُس کے آگے کوئی حیثیت نہیں رکھتی مگر اُسے یہ معلوم نہیں ہُو تا کہ یہ اُس کی آزمائش کی جا رہی ہے۔

پِھر جَب میں نے دوسری جانب دیکھا تو ان لوگوں کو جو عارضی یا وقتی طور پَر اِن نعمتوں سے دور رہتے ہیں تو ان کے اندر عاجزی، صبر اور استقامت اس قدر ناپید ہے کہ ذراسی آزمائش کی چند ایک گھڑی آجا ئیں تو انسان زندگی سے اُکتا ہو جا تا ہے ۔

تعلیم کے تکمیل ہو تے ہی اگر نو کری نہ ملی تو زندگی سے بیزار و اُکتا جا تا ہے گویا کہ چھوٹی چھوٹی بیزاریوں سے انسان بنا کسی سوچ سمجھ کے رب العزت کی عطا کردہ انمول نعمت یعنی زندگی کا چراغ بجھانے کا سوچ لیتا ہے ۔  مگر حقیقت یہ ہے کہ ہَم میں سے اکثر افراد کو اس قسم کے مسائل سے دوچار ہو نا پڑتا ہے ۔ مگر اِدھر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آج کا انسان کیونکر اپنی زِندگی سے بیزار ہو جاتا ہے؟

آج آدمی اپنے آپ کو اتنا گھٹیا کیوں سمجھ لیتا ہے ؟ وہ کامیابی کی طرف گامزن افراد کو دیکھ کر خود محنت کرنے کے بجائے ان سے کیوں حسد کر تا ہے ؟ ترقی کرنا تو دورکی بات ہے ان کی دیکھا دیکھی خود سے کوشش کیوں نہیں کر تا کہ کامیاب ہوجاوں۔ اِس بات کو تو ہم بڑی خوشی کے ساتھ اپنے دوستوں کے مابین بیٹھ کر بیان کر تے ہیں کہ فلاں بڑے شخص کو بہت ہی اچھی طرح جانتا ہوں اور آج وہ بڑا آدمی بن گیا ہے اور میں ویسے کا ویسا   ۔۔۔۔۔ کیا آپ کو اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا نا نہیں آتا۔

اگر غور کیا جا ئے تو انسان نے بُری عادتوں کے آگے سر تسلیم خم خود ہی کیا ہے جو اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں سے واقف نہیں اور کہتا ہے کہ میں کر ہی کیا سکتا ہوں؟ یہ سب کچھ اب میری قسمت اور میرے مزاج کا ایک حصہ ہے میں اِسے کیسے اور کیونکر تبدیل کر سکتا ہوں مگر پھر میں نے تمام با توں کا لُبِ لباب اسی بات سے نکا لا کہ زندگی کی روح کو کسی بھی جانب کسی بھی لمحے پلٹ سکتے ہیں مگر اس کے لئے نا شکرا پن چھوڑ کر اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانی ہو گی اور افسر دگی سے پہچھا چھڑا کر خوش و خرم نظر آنا ہو گا ۔

ہمیں لا لچ و کنجوسی کو چھوڑ کر کشادہ دل سے کام لینا ہوگا، اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھنا ہوگا اپنے غم اور اندیشوں کو صبرو تحمل سے برداشت کر نا ہو گا مصائب کے تاریک اندھیروں میں خوشی کی کر نیں خود آگے بڑھ کر تلاش کرنی ہو نگی ۔

اپنے اعتماد، ایمان اور ہمت سے اپنی قسمت کو یکسر بدلنے نکلنا ہو گا اپنی زندگی کے لئےایک ایمان افروز مقصدِ حیات چُننا ہو گا اپنی زندگی کی پریشانیوں سے مایوس ہو نے کو چھوڑ کر اپنی منزل کے لئے راستے تلاش کر کے ہر دن قدم آگے بڑھانا ہو ںگے زندگی میں کا میابی کا دارومدار صرف اور صرف ایک ہی ہے کہ جسے اپنا نا ہو گا اور وہ ہمیں اتباع شریعت محمدی ﷺ سے ہی حاصل ہو سکتا ہے ۔

اس لئے اُمت محمدی ﷺ کے تمام کے تمام مسائل کا حل اللہ کے پیغمبر ﷺ کی سیرتِ پَاک میں ہی موجود ہے بلا شبہ آپ ﷺ کی زندگی ہما رے لئے مشلِ راہ ہے کو ئی بھی مسئلہ  درپیش ہو اس کا حل سیرت طیبہ ﷺ میں مو جود ہے ۔

ہ، دینِ اسلام کے شروع کے دور کی داستا نیں بھی آپ نے یقیناّ پڑھی اور سنی ہو نگی جب مسلمان صرف ایک کھجور سے ہی روزہ رکھتے تھے اور ایک کھجور سے ہی افطار بھی کیا کر تے تھے اور اس وقت کے وہ عجیب و غریب واقعات بھی آپ کو معلوم ہو نگے کہ جس وقت قیصرو کسریٰ کی دولت اور ریشم و جواہرات مدینے کی گلیوں میں بکھرے ہوئے تھے ۔

پھر یقیناّ آپ نے وہ بھی سُنا ہو گا کہ جب زکوٰٰۃ کا مستحق پو ری کی پوری سلطنت میں کو ئی ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا تھا پھر وہ جذبہ ایمانی بھی آپ نے یقیناّ سنا ہو گا کہ جب بحرہِ ظلمات میں گھوڑے دوڑائے گئے تھے ۔

گر وہ بھی بھول گئے تو تا ریخ کے پنّوں میں صلاح الدین ایوبی، طا رق بن زیاد، حجاج بن یو سف اور محمد بن قاسم جیسے نامور اشخاس کے با رے میں پڑھ لینا کہ

تا ریخ  اُن تمام لو گوں کی کا میابی کا راز کیا بتا تی ہے ہمیشہ مسلمان زندگی کے ہر میدان میں ہر شعبے میں اُسی وقت کا میاب ہو ئے جب تک ہم نے مرکز یعنی قرآن و حدیث کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط رکھا اور آج ہما ری نا کا میوں کی اصل وجہ ہما ری قرآن و حدیث سے دوری ہے ہمیں اپنے دین کے قوا نین، اصول و ضوابط کی طرف لوٹنا ہو گا ۔

ہمیں حقیقی معنوں میں مسلمان بننا ہو گا ایسا مسلمان  جو جن و انس کے ساتھ ساتھ حیوانات کیساتھ بھی حسنِ سلوک کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دے۔

آئیے کا میابی کی طرف ،

کامیابی آپ کی منتظر ہے  ۔

Share this page:

0 Comments

Write a Comment

Your email address will not be published.
Required fields are marked *